رانا ثنااللہ کی نیب میں پیشی کی وجوہات: تفصیلات سامنے آگئیں

یونان حادثہ، کشتی میں سوار پاکستانیوں کی تعداد 350 ہے، وزیر داخلہ

فائل فوٹو


اسلام آباد: قومی احتساب بیور (نیب) کی جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثنااللہ کی 10 ستمبر طلبی کی وجوہات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

ذرائع کے مطابق نیب رانا ثنااللہ کی اہلیہ، داماد اور بیٹی کی جائیدادوں سے متعلق تفتیش کرے گی۔ رانا ثنااللہ سے بسم اللہ سوسائٹی میں خریدے گئے پلاٹس سے متعلق تفتیش ہوگی۔ بسم اللہ سوسائٹی لاہور میں رانا ثناءاللہ کے 5 پلاٹ ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیب رانا ثنااللہ سے پیراڈایز ویلی فیصل آباد میں 2 کروڑ کی انوسٹمنٹ سے متعلق پوچھ گچھ کرے گی۔ فیصل آباد میں 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کی دکان سے متعلق بھی پوچھ گچھ ہو گی۔

خیال رہے کہ نیب لاہور نے رانا ثنااللہ کو 10ستمبر کو طلب کر لیا ہے۔ نیب نے رانا ثنااللہ کے خلاف جاری انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔

ذرائع  کے مطابق رانا ثنا اللہ کیخلاف کیس پر جامع بریفنگ کے بعد انکوائری کوانویسٹی گیشن میں منتقل کرنے کی منظوری دے دی گئی تھی۔ رانا ثنااللہ کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے حوالے سے تحقیقات جاری جاری ہیں۔

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نیب نے رانا ثنااللہ کیخلاف 40 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثہ جات کے شواہد اکھٹے کیے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل نیب بورڈ اجلاس میں راناثنااللہ کے اثاثہ جات کی وصولی کی تفصیلات اور بیانات پرجامع بریفنگ دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: سلیکٹڈ حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے، رانا ثنااللہ

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ رانا ثنااللہ کروڑوں مالیت پر مشتمل اثاثہ جات کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے ہیں۔

نیب نے اس سے پہلے الزام لگایا تھا کہ رانا ثنا اللہ نے منصب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے فیصل آباد میں انڈر پاس کا نقشہ تبدیل کروایا اور من پسند افراد کو فائدہ پہنچایا۔

اس سے پہلے بھی نیب لاہور میں موجود لا چیمبر، ڈی ایچ اے کے دو گھروں، آٹھ کنال اراضی، رحمان گارڈن کی چار دکانوں، موجود سونے اور لینڈ کروزر کے بارے میں بھی چھان بین کرتا رہا ہے۔


متعلقہ خبریں