مجید اچکزئی کیس: جاں بحق ٹریفک سارجنٹ کے بیٹے کی حکومت سے انصاف کی اپیل

مجید اچکزئی کیس: جاں بحق ٹریفک سارجنٹ کے بیٹے کی حکومت سے انصاف کی اپیل

فوٹو: ہم نیوز

اسلام آباد: سابق رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) مجید اچکزئی کی گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ٹریفک سارجنٹ عطااللہ خان کے بیٹے نے حکومت سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

ہم نیوز کے مارننگ شو ’صبح سے آگے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے محسن عطا کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اور وزیراعلیٰ پنجاب ہمیں انصاف دلائیں، پولیس نے بھائی کو ملازمت اور سرکاری گھر دینے کا وعدہ کیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوا۔

مقتول ٹریفک سارجنٹ عطااللہ کے بیٹے محسن عطا نے ہم نیوز کی وساطت سے اپیل کی کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور عثمان بزدار سے درخواست ہے کہ ہمارے ساتھ پیش آئے واقعے کا نوٹس لیں۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ٹریفک سارجنٹ قتل کیس میں مجید اچکزئی کے خلاف ثبوت عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہم نیوز کے مارننگ شو ’صبح سے آگے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ ٹریفک سارجنٹ کے گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہونے کا دلخراش واقعہ 2017 میں پیش آیا  اور واضح ہے کہ گاڑی آکر سارجنٹ  کو  کچل دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹریفک سارجنٹ قتل کیس: سابق رکن اسمبلی مجید خان اچکزئی بری

میزبان اویس منگل والا اور شفا یوسفزئی سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹ نے مجید اچکزئی کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا مگر پولیس بطور فریق فیصلے کو چیلنج کرے گی۔

لیاقت شاہوانی نے کہا کہ والد کی جگہ بیٹے کو نوکری دینے کی بات کی گئی تھی مگر اس وقت کی حکومت نے اس سلسلے میں اقدامات نہیں اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک سارجنٹ عطااللہ کا بیٹا ہمارے دفتر آسکتا ہے، ان کا آئی جی بلوچستان سے رابطہ کروا دیں گے اور میں خود بھی ملاقات کرنے کو تیار ہوں۔

دو روز قبل صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سابق ایم پی اے مجید اچکزئی کی گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے کانسٹیبل کے لواحقین نے چیف جسٹس پاکستان اور وزیراعظم  سے اپیل کی تھی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جان بحق ہونے والے سب انسپکٹر حاجی عطا محمد  کے والدین اور بھائی کا کہنا تھا کہ جس انصاف کی ہمیں توقع تھی وہ نہیں ملا۔ مجید اچکزئی کو بری کرکے  ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل کوئٹہ کی مقامی عدالت نے ٹریفک سارجنٹ قتل کیس میں سابق رکن اسمبلی مجید خان اچکزئی کو بری کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ 

ماڈل کورٹ کوئٹہ نے پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ جون 2017 میں مجید اچکزئی نے کوئٹہ شہر کے زرغون روڈ پر ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر حاجی عطا محمد کو مبینہ طور پر اپنی گاڑی تلے روند ڈالا تھا۔ حادثے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

پولیس نے مجید اچکزئی کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا تھا۔ مقامی عدالت نے انہیں جیل کی سزا بھی سنائی تھی۔  عبدالمجید اچکزئی کو جیل سے ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز