کراچی: بلدیہ ٹاؤن ٹیکسٹائل فیکٹری سانحہ کو آٹھ سال بیت گئے

کراچی: شہر قائد کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ٹیکسٹائل فیکٹری سانحہ کو آٹھ سال بیت گئے ہیں، اس اندوہناک واقعہ میں دو سو انسٹھ افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ کے متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ دوسری جانب سانحہ کے مرکزی ملزم متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق سیکٹر انچارج عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا فیکٹری میں آگ لگانے کے بیان سے مکر گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ محفوظ، 17 ستمبر کو سنایا جائےگا

11 ستمبر سال 2012 کو پیش آنے والے اس خوفناک واقعہ کو پاکستان کا نائن الیون بھی کہا جاتا ہے۔ حب ریور روڈ پر واقع علی انٹر پرائزز میں خطرناک آگ نے 259 جانیں نگل لیں۔

واقعے کا مقدمہ پہلےسائٹ بی تھانے میں فیکٹری مالکان، سائٹ لمیٹڈ اور سرکاری اداروں کے خلاف درج کیا گیا، مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں بھی بنیں اور جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا گیا مگر تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکا۔

فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ، شاہد بھائیلہ اورعبدالعزیز 2014 میں عدالتی اجازت کے بعد دبئی چلےگئے۔ 6 فروری 2015 کو رینجرز نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی کہ کلفٹن سے ناجائز اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا  ہے کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی۔

ملزم کا کہنا تھا کہ آگ لگانے کی اہم وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا 20 کروڑ روپے کا بھتہ تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ  کے مطابق حماد صدیقی نے بھتہ نہ دینے پر رحمان عرف بھولا کو آگ لگانے کا حکم دیا جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آگ لگا ئی۔ 2015 میں  ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں  جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے دبئی میں جاکر فیکٹری مالکان سے تفتیش کی جنہوں نے  اقرار کیا کہ ان سے بھتہ مانگا گیا تھا۔

2016 میں جے آئی ٹی پر چالان ہوا۔ اسی سال دسمبر میں رحمان بھولا کو بینکاک سے گرفتارکیا گیا۔ کیس کا مقدمہ پہلے سٹی کورٹ میں چلا اور پھر سپریم کورٹ کی ہدایات پرکیس کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چلایا گیا۔

مذکورہ مقدمے میں ایم کیوایم کارکن زبیر چریا اوردیگر ملزمان گرفتار ہیں جبکہ روف صدیقی ضمانت پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: شاہ فیصل کالونی میں پلاسٹک کی فیکٹری میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا

بلدیہ ٹاؤن میں ٹیکسٹائل فیکٹری سانحہ کی تحقیقات میں اب تک 400 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جبکہ تین تفتیشی افسران بھی تبدیل ہوچکے ہیں۔ 4 سیشن ججز نے سماعت سے معذرت کرلی تھی جبکہ 6 سرکاری وکلا نے دھمکیوں کے باعث مقدمہ چھوڑ دیا تھا۔

جنوری 2019 میں کیس کے مرکزی ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا فیکٹری میں آگ لگانے کے بیان سے مکر گئے۔

2 ستمبر2020 کو گواہان کے بیانات اور وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمہ کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو 17 ستمبرکوسنایا جائیگا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز