ٹیکس، بے نامی جائیداد کی نشاندہی کیلئے محکمہ ایکسائز پنجاب اور ایف بی آر میں معاہدہ

لاہور: ٹیکس اور بے نامی جائیدادوں کے مالکان کی نشاندہی کیلئے محکمہ ایکسائز پنجاب اور فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کا معاہدہ طے پا گیا۔

صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول حافظ ممتاز احمد کے مطابق ڈیٹا شئیرنگ معاہدے سے دونوں محکموں کے ریونیو میں اضافہ ہو گا۔ معاہدہ سے بے نامی جائیداد مالکان کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔

ڈی جی ایکسائز چوہدری مسعودالحق اور ایف بی آر آئی ٹی ممبر نے معاہدے پر دستخط کر دئے۔

حکام کے مطابق معاہدے سے موٹر وہیکل رجسٹریشن اور پراپرٹی ٹیکس ریکارڈ کے حوالے معاونت ملے گی۔ ڈیٹا شیئرنگ سے ٹیکس چوروں اور بے نامی جائیداد مالکان کا سراغ لگایا جائے گا۔ دونوں محکموں کو ایک دوسرے کے آن لائن ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوگی۔

ممبر ایف بی آر آئی ٹی محمد عاصم نے کہا کہ معاہدے سے ریکارڈ حاصل کر نے میں بڑا بریک تھرو ہوگا۔

پہلے دونوں محکمے آپس میں ڈیٹا شیئرنگ کرتے تھے لیکن معاہدہ نہیں تھا، اب ہر چیز ون کلک پر مل سکے گی۔ تقریب میں ڈی جی ایکسائز مسعودالحق سمیت لاہور اور ہیڈکوارٹرز کے  ڈائریکٹرز نے شرکت کی تھی۔

مزید پڑھیں: 31 دسمبر انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں لاہور میں بڑے پیمانے پر بے نامی ٹرانزیکشنز کا دھندہ سامنے آیا تھا۔

ہم نیوز کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے فیڈرل بیوروآف ریونیو (ایف بی آر) کو جائئیدادوں کی اٹھارہ سو کے قریب بے نامی ٹرانزیکشن کی تفصیلات فراہم کر دی تھیں۔

ہم نیوز کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے شہر کے نو زونز میں سترہ سو چھیانوے بے نامی جائیداروں کا ریکارڈ ایف بی آر کے سپرد کر دیا تھا ۔

دستاویزات کے مطابق سمن آباد زون میں سب سے زیادہ چار سو اناسی جائیدادوں کی خریداری کے لیے بے نامی ٹرانزیکشنز کی گئی تھیں۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر داتا گنج بخش زون میں تین سو پچیس ٹرانزیکشنز ہوئی تھیں۔

ایف بی آر کا کہنا تھا کہ تمام زونز کا ڈیٹا مرتب کرلیا گیا ہے، تحقیقات مکمل ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز