موٹروے زیادتی کیس: مرکزی ملزم شفقت سمیت تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا


لاہور: موٹروے زیادتی کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم شفقت سمیت گرفتار تینوں ملزمان کو 29 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل پھیج دیا۔

موٹروے زیادتی کیس میں گرفتار تینوں ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ملزمان کو 29 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجدیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم شفقت کو گزشتہ روز دیپالپور سے گرفتار کیا گیا۔ ملزم کا ڈی این اے ابتدائی طور پر متاثرہ خاتون سے میچ کر گیا۔ملزم شفقت کی نشاندہی پر مرکزی ملزم عابد کو گرفتار کرنا باقی ہے۔

پیشی کے دوران جج نے ملزم شفقت سے استفسار کیا کہ تم نے کچھ کہنا ہے تو بتاوَ۔ اس پر ملزم نے جواب دیا ـمہربانی کر دیں،مجھے چھوڑ دیں۔

جج نے کہا کہ تمہارا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔ تم نے کچھ نہیں کیا ہو گا تو چھوٹ جاوَ گے۔

اس سے قبل تینوں ملزمان کو لاہور کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 شامل ہے اس لیے ملزم کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے۔

ملزم کے خلاف زیادتی کے مقدمے میں دہشت گردی کی بھی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ خاتون کے عزیز سردار شہزاد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ملزم شفقت کو گزشتہ روز دیپالپور کے نواحی گاؤں سے گرفتار کیا گیا تھا اور سی آئی اے کی ٹیم گرفتار کرنے کے بعد اسے لاہور لے کر پہنچی تھی۔ ملزم شفقت نے پولیس حراست میں اعتراف جرم کیا جبکہ ملزم کا ڈی این اے بھی متاثرہ خاتون کی رپورٹ سے میچ کر گیا تھا۔

ملزم شفقت کا کہنا تھا کہ عابد اسے اکثر وارداتوں کے لیے بلا لیتا تھا اور اس رات بھی واردات کے وقت عابد نے شراب پی رکھی تھی۔ اس دوران تیسرا ساتھی بالا مستری بھی ساتھ تھا تاہم واردات سے پہلے وہ واپس چلا گیا تھا۔

ملزم کا کہنا تھا کہ بالا مستری کے چلے جانے کے بعد وہ اور عابد علی رکشہ کرائے پر لے کر کرول گاؤں کی موٹروے سے لنک سڑک پر پہنچے تھے۔

شفقت علی کے مطابق جب انہوں نے موٹروے پر گاڑی دیکھی تو واردات کی نیت سے وہاں پہنچے تاہم گاڑی کے اندر موجود خاتون نے باہر آنے سے انکار کیا تو عابد نے گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔

ملزم کے مطابق گاڑی کا شیشہ توڑنے کے بعد بھی خاتون گاڑی سے باہر نہیں آ رہی تھیں جس پر انہوں نے بچوں کو اتار لیا اور موٹروے سے نیچے کھائی کی طرف لے گئے تھے جس کے بعد مجبوراً خاتون بھی پیچھے آ گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے جیسے واقعات پر حکومتوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے، عدالت

ملزم شفقت علی کے مطابق انہوں نے بچوں کو مارنے کی دھمکی دے کر خاتون کو ذیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد نقدی اور زیورات لے کر فرار ہو گئے۔

دوسری جانب ملزم شفقت کے بیان کے بعد ان کے تیسرے ساتھی اقبال عرف بالا مستری کو بھائی سمیت چیچہ وطنی سے گرفتار کر لیا گیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز