ڈاکٹر عدنان نے نوازشریف کی تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس جاری کر دیں


لندن:  نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سابق وزیراعظم  کی تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس جاری کردیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی گئیں رپورٹس سے متعلق ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کوعلاج کیلئے لندن میں ہی رہنےکا مشورہ دیا گیا ہے۔

ڈاکٹرعدنان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو کورونا وبا کے دوران سفر کرنے سےمنع کیا گیا ہے۔ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس انکی صحت اور زندگی کولاحق خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ڈاکٹرعدنان نے کہا ہے کہ نوازشریف کو امراض قلب کی پیچیدگیوں کےعلاج کیلئے پروسیجرکی ضرورت ہے۔ نوازشریف کو کورونا ہائی رسک مریض ہونے کی وجہ سے انفیکشن کا خطرہ ہے۔ کورونا ہائی رسک مریض ہونے پر نواز شریف کا پروسیجر اب تک نہیں کیا جاسکا ہے۔

خیال رہے کہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت  دو رکنی بینچ نے کی۔

مزید پڑھیں: نواز شریف ہائی رسک کیٹیگری کے مریض ہیں،میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع

عدالت نے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا اشتہاری ہوتے ہوئے نواز شریف کی اپیل سنی جا سکتی ہے؟  جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر نواز شریف کی عدم حاضری پر اپیل سنی جا سکتی ہے تو پھر نیب کو بھی سن لیتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ عدالت میں درخواست کیوں دائر کی گئی؟ ابھی توطے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پریس میں ایک بات غلط رپورٹ ہوئی کہ اپیلوں پر سماعت کی بات کی گئی۔ ہم صرف نواز شریف کی متفرق درخواستوں پر سماعت کی بات کر رہے ہیں۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کے دوران مؤقف اپنایا کہ نواز شریف کو دوسری عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے اور بغیر سنےاشتہاری قرار دیا گیا۔

عدالت نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ جب کوئی اشتہاری قرار دے دیا جائے تو کیا ضمانت منسوخی کی الگ ضرورت ہے؟ کیا اشتہاری قرار دیئے گئے ملزم کی درخواست سن سکتے ہیں؟

عدالت نے کہا کہ ابھی نیب کی نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست التوا میں رکھ رہے ہیں۔ اگر نواز شریف کی درخواستیں قابل سماعت قرار دیں تو اس کو سنیں گے۔

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف فی الحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔


متعلقہ خبریں