انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ میں مسترد

انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیمی کا بل سینیٹ میں مسترد

فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی اسمبلی سے پاس ہونے والا انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ میں مسترد ہو گیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے بل پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا تھا۔ بل کے حق میں 31 اور مخالفت میں 34 ووٹ آئے۔

انسداد دہشت گردی تیسرے ترمیمی بل 2020 کے مطابق تفتیشی افسرعدالت کی اجازت سے 60 دن میں بعض تکنیکس استعمال کر کے دہشت گردی میں رقوم کی فراہمی کا سراغ لگائے گا، ان تکنیکس میں خفیہ آپریشنز، مواصلات کا سراغ لگانا اور کمپیوٹر سسٹم کا جائزہ لینا شامل ہے۔

مذکور بل گزشتہ روز قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 میں تفتیشی طریقہ کار میں نئی تکنیک استعمال کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔

نئی شق کے تحت تفتیشی افسر عدالت کی اجازت سے 60 دن میں بعض تکنیک استعمال کرکے دہشت گردی میں رقوم کی فراہمی کا سراغ لگائے گا۔ انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کے تحت ان تکنیک میں خفیہ آپریشنز، مواصلات کا سراغ لگانا، کمپیوٹر سسٹم کا جائزہ لینا شامل ہے۔ عدالت کو تحریری درخواست دے کر مزید 60 دن کی توسیع حاصل کی جا سکتی ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق ایک اور کوآپریٹو سوسائٹی بل پیش کیا گیا جسے منظور کرلیا گیا جب کہ جماعت اسلامی نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز