کراچی:گیس بحران کے باعث لوڈشیڈنگ12گھنٹے تک پہنچ گئی


کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بارہ گھنٹے تک پہنچ گیا ہے اور کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ گیس میں کمی کے باعث دو پاور پلانٹ بند کر دیئے گئے ہیں۔

بن قاسم پاور پلانٹ سے بھی بجلی کی پیداوار محدود ہے۔ گلشن اقبال، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد، ایف بی ایریا، گلستان جوہرکے علاقے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

کراچی میں بجلی کی طلب و رسد میں فرق 600 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے اور لوڈشیڈنگ سے مثتنیٰ علاقوں میں بھی6 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لیاقت آباد، گلبہار، ملیر اور لانڈھی میں بھی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔

کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی تک لوڈشیڈنگ کرنا مجبوری بن چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فرنس آئل کی فراہمی جاری ہے لیکن مہنگی بجلی بنانے سے عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا۔

صنعتوں سمیت نجی بجلی گھروں اورکےالیکڑک کو بھی گیس کی ترسیل میں مشکلات درپیش ہیں۔ سوئی گیس حکام کا کہنا ہےکہ پریشرمیں بہتری پرہی گیس کی ترسیل ممکن کی جاسکتی ہے۔

کورنگی اورسائٹ سمیت مختلف صنعتی زونزمیں گیس پریشرنہ ہونےکے برابر ہے اور سی این جی سیکٹر کا بھی شیڈول بھی مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

کوثرگیس فیلڈ سے سپلائی نہ ملنے پرمختلف سیکٹرزبھی متاثر ہیں۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ گیس کی ترسیل بند ہونےسےآرڈرمکمل ہونا مشکل ہوگیا ہے۔

سوئی گیس حکام کی جانب سےنجی بجلی گھروں اورکےالیکڑک کوبھی متعلقہ گیس کی سپلائی نہیں کی جارہی۔ سوئی گیس حکام کا کہنا ہےکہ ٹیمیں سسٹم میں گیس پریشرکی مانیٹرنگ کررہی ہیں صورتحال بہترہونے پرمختلف سیکٹرزکو سپلائی کی جاسکتی ہے۔

گزشتہ ماہ چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے حکم دیا تھا کہ کراچی میں ایک منٹ کی لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔

کے الیکٹرک کے وکیل عابد زبیری نے مؤقف اختیار کیا کہ لوڈ شیڈنگ کی سب سے بڑی وجہ بجلی چوری ہے۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آئندہ یہ بات نہ سنوں اور شہر میں ایک منٹ کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی جولائی2020 میں کراچی میں لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے اسد عمر، گورنر سندھ اور معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن کو کے الیکٹرک انتظامیہ سے ملاقات کرکے مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز