فیس بک نے قوانین کی خلاف ورزی پر 10 لاکھ گروپس کو ہٹا دیا

فیس بک کا20رکنی ادارتی بورڈ کا اعلان، پاکستان کی نگہت داد بھی شامل

فائل فوٹو

سماجی رابطوں کی معروف ویب سائٹ فیس بک نے گزشتہ ایک سال کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر 10 لاکھ گروپس کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ایک کروڑ تیس لاکھ نفرت انگیز پوسٹوں کو بھی ہٹایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ فیس بک نے گروپس سے متعلق اعدادوشمار جاری کیے ہیں، فیس بک گروپس کے ناقدین ایک عرصہ سے کہہ رہے تھے کہ گروپوں کے اندر نفرت انگیز مواد اور سازشی تھیوریاں شیئر کی جاتی ہیں۔

فیس بک میسنجر پر ایک ساتھ 50 لوگوں کو ویڈیو کالنگ کی سہولت

یاد رہے کہ کچھ ماہ قبل  فیس بک نے لاک ڈاؤن مخالف مواد کو ہٹانے کا بھی اعلان کیا تھا۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ ایسے تمام پیجز، پوسٹس اور تقریبات کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا جن میں لاک ڈاؤن ختم کرنے اور اس کے خلاف مظاہروں میں شرکت کا کہا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق اس نے پہلے ہی امریکی ریاست کیلیفورنیا، نیو جرسی اور نیبراسکا میں ایسی تقریبات کی  تشہیر اور پیجز کو ہٹایا ہے جن میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے متعلق بات کی گئی تھی۔

کورونا وائرس کے حوالے سے جعلی خبروں اور غلط معلومات کے خلاف مہم کے لیے بھی فیس بک کی جانب سے ایک نیا ٹول متعارف کرایا گیا۔

صارف اس وائرس یا اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے حوالے سے کسی غلط معلومات یا جعلی خبر کو لائیک یا کمنٹ کرے گا تو اسے خبردار کیا جائے گا۔  اگر وہ گزشتہ دنوں بھی ایسا کرچکا ہے تو مواد کو ڈیلیٹ کرنے کے ساتھ اس پر کمنٹس، لائیک یا ری ایکشن کرنے والے افراد کو الرٹ کیا جائے گا۔

فیس بک کی جانب سے ویکسین سے متعلق مواد کو سرچ کرنے والے صارفین پر بھی زور دیا جارہا ہے کہ وہ قابل اعتبار ذرائع جیسے عالمی ادارہ صحت یا دیگر پر جایں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز