پاکستانی ہندوؤں کی ہلاکت کا معاملہ: رمیش کمار کا بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے دھرنے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا ہے کہ بھارت کے شہر جودھپور میں پاکستانی ہندوؤں کی ہلاکت پر بھارتی ہٹ دھرمی کے خلاف ہندو برادری پرسوں اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر دھرنا دیں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جودھپور واقعے کے خلاف 6 گھنٹے کے بعد ملک بھر سے ہندو برادری کے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے 24 ستمبر کو بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی دھرنا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ رات 10 بجےتھر پارکر سے جلوس نکلے گا۔ حیدر آباد ،نوابشاہ اور کراچی سے ہندو برادری کے قافلے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔ پاکستان بھر سے اقلیتی برادری کے لوگ اسلام آباد آئیں گے۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کو بتانا چاہتے ہیں۔ جب تک بھارت ہندو خاندان سے متعلق تحقیقات کی کاپی شیئر نہیں کرے گا، دھرنا جاری رہے گا۔

مزید پڑھیں: گیارہ ہندوؤں کی موت،ذمہ دار بھارتی حکومت ہے: پاکستان ہندو کونسل

ہمارے مطالبے کے باوجود جودھ پور واقعہ کی شفاف تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ بھارتی پولیس خود کشی کا ڈرامہ رچا کر اصل حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے۔

رمیش کمار نے کہا کہ آج وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور ان کو تحفظات سے آگاہ کیا۔ اگر اقلیتی برادری کے مہمانوں کے ساتھ برا سلوک ہو تو ان ممالک کا کیا ردعمل ہوگا۔ اب ہندو برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

رکن قومی اسمبلی رمیش کمار بھارت میں 11 پاکستانیوں کا قتل ہوا۔ قتل کو بھارت نے خودکشی قرار دیدیا، یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔ پاکستانی سفارتخانہ کو واقعہ تک رسائی نہیں دی جارہی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت پر دباوَ ڈالیں گے۔

رمیش کمار نے کہا کہ ایک ماہ ہونے کو ہے کوئی اطلاع نہیں کہ ان کے خاندانوں کا کیا حال ہے؟ بھارت میں پاکستانیوں سے جاسوسی نہ کرنے پر ایسا سلوک کیا جاتا ہے، سب کو علم ہے۔

خیال رہے کہ 9 اگست کو بھارت میں 11 پاکستانی ہندو پراسرار طور پر ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی میڈیا نے کہا تھا کہ پاکستان سے جانے والے ہندو راجستھان کے ضلع جودھپور میں رہائش پذیر تھے، جاں بحق ہونے والوں پورے خاندان کا صرف ایک فرد ہی زندہ بچا تھا۔

متعلقہ خبریں