سندھ کو اس کے حصے کی گیس نہیں دی جا رہی، مرتضیٰ وہاب

کراچی: ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پاکستان کی 65 فیصد گیس سندھ سے دریافت ہوتی ہے، اس کے باوجود صوبے کو اس کے حصے کی گیس نہیں دی جا رہی ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ سردیوں میں گیس نہیں ہو گی۔  اربوں روپے نہیں دے سکتے، گیس تو دیں، گیس مہیا کرنا ہو گی، ورنہ صنعت نہیں چل سکتی۔  کاروباری طبقہ مطمئن ہو گا تو ہی ملک میں اطمینان آئے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی) کے ترجمان نے کہا تھا کہ سردیوں میں گیس کے مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی:گیس بحران کے باعث لوڈشیڈنگ12گھنٹے تک پہنچ گئی

ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی نے کہا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول کے الیکٹرک اپنا متبادل بندوبست کریں، کے الیکٹرک سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو پیشگی اطلاع دی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سوئی گیس کو 300 ایم ایم سی ایف ڈی کمی کا سامنا ہوگا، مختلف فیلڈز سے ایس ايس جی سی  سسٹم میں گیس کم موصول ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں ڈیڑھ سال بعد گیس کی قلت پیدا ہوجائے گی، معاون خصوصی پٹرولیم

سوئی سدرن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گیس فیلڈ سے گیس پریشر میں کمی ہے، ایس ایس جی سی کو 150 ایم ایم سی ایف ڈی کا شارٹ فال ہے۔ شارٹ فال ہو نے سے لاٸن پیک کی صورتحال متاثر ہوٸی ہے۔ 

ترجمان کے الیکٹرک نے کہا کہ شارٹ فال ہو نے سے لائن پیک کی صورتحال متاثر ہوئی ہے، گھریلو صارفین کو گیس پہنچانا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ایس ایس جی ترجمان کا کہنا تھا کہ باقی گیس فیلڈز سے ملنے والی گیس کے مقدار میں بھی کمی ہورہی ہے۔ سنجھورو اور زرگون گیس فیلڈز سالانہ مرمت کی وجہ سے بند ہے۔

سوئی سدرن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو 190 سے 200 ایم ایم سی ایف ڈی تک گیس کی سپلائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

ترجمان ایس ایس جی نے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے طے شدہ لوڈ مینجمنٹ کے طریقہ کار ر پر عمل کیا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز