وفاقی کابینہ: وزرا میں تلخ جملوں کا تبادلہ، وزیراعظم کو مداخلت کرنا پڑگئی

بیروزگار اپوزیشن کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں، چاہتا ہوں کہ روز جلسے کریں: وزیراعظم

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تین وزرا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

وفاقی کابینہ: جان بچانیوالی 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری

ہم نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا کے درمیان ہونے والے تلخ جملوں کے تبادلوں کو رکوانے کے لیے وزیراعظم عمران خان کو باقاعدہ مداخلت کرنا پڑی ہے۔

اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے اجلاس کی اندرونی کہانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزرا کے درمیان ہونے والی روایتی نوک جھونک باقاعدہ تلخ جملوں میں تبدیل ہو گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اسد عمر سے شکوہ کیا کہ آپ ہمیں پورا ایجنڈا نہیں پڑھنے دیتے  ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا اس موقع پروفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

کابینہ اجلاس: وزیر اعظم نے وزرا کو غیر ضروری بیانات دینے سے روک دیا

ہم نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ اسی دوران وفاقی وزیر اسدعمر نے وزیراعظم کے مشیر ندیم بابر کو بھی سنا دیں۔

انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق اسد عمر نے وزیراعظم کے مشیر پر الزام عائد کیا کہ آپ پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کے معاملے میں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ’جواب آں غزل‘ کے طور پر وزیراعظم کے مشیر ندیم بابرنے وفاقی وزیر اسد عمر پر الزام عائد کیا کہ میں نہیں، آپ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت ترجمانوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی

ہم نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین نے دونوں کو خاموش کرایا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز