سعودی عرب کا عمرہ اور زیارات بحال کرنےکا اعلان

ریاض: سعودی عرب نے عمرہ اور زیارات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مقامی لوگ4اکتوبرسےعمرہ ادا کرسکیں گے۔

عمرہ مرحلہ وار بحال کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر اندرون مملکت سے سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو عمرہ اور زیارت کی اجازت ہوگی۔

سعودی حکومت نےکوروناکےباعث عمرہ کی ادائیگی معطل کردی تھی لیکن اب سعودی وزارت داخلہ نے عمرہ کی ادائیگی کے پہلےمرحلےکےآغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ کورونا وائرس کی تازہ صورتحال کے پیش نظر سعودی قیادت نے عمرہ اور زیارت کی اجازت دی ہے۔

شاہی فرمان کے مطابق دیگرممالک کے مسلمان یکم نومبرسےعمرہ ادا کرسکیں گے۔ پہلے مرحلے میں4 اکتوبر سے6ہزار سعودی شہریوں اور وہاں مقیم افراد کوعمرے کی اجازت ہوگی۔

روزانہ چھ ہزارعمرہ زائرین کو مسجد الحرام  جانے کا موقع دیا جائے گا۔ اس موقع پر حفظان صحت کی  تدابیر کی پابندی کرائی جائے گی۔

دوسرے مرحلے میں سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو عمرہ، زیارت اور نمازوں کی اجازت ہوگی۔ روزانہ 15 ہزارعمرہ زائر اور چالیس ہزار افراد مسجد الحرام میں نماز ادا کرسکیں گے۔ مسجد نبوی کی گنجائش کے 75 فیصد تک نمازیوں کو جانے کی اجازت ہوگی۔

تیسرے مرحلے کی شروعات یکم نومبر 2020 پندرہ ربیع الاول سے ہوگی۔ اس دوران سعودی شہریوں اور مملکت کے اندر اور باہر سے غیرملکیوں کو عمرہ، زیارت اور نمازوں کی اجازت دی جائے گی۔

اس مرحلے میں روزانہ 20 ہزار زائر عمرہ کرسکیں گے اور 60 ہزار کو مسجد الحرام میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز ادا کرنے کا موقع مہیا ہوگا۔

چوتھے مرحلے میں عمرہ اور زیارات کو مکمل کھول دیا جائے گا۔ یہ اجازت اس وقت دی جائے گی جب متعلقہ حکام وبا کے خطرات ختم ہوجانے کا فیصلہ کرلیں گے۔

عمرہ اور زیارت اجازت ایسے ممالک کے باشندوں کو دی جائے گی جن کے متعلق  سعودی وزارت صحت یہ فیصلہ دے گی کہ وہاں کورونا کی وبا کے حوالے سے صحت کے لیے خطرات ختم ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کی حکومت نے کوروناوائرس کے پیش نظرمارچ2020 میں اپنے شہریوں کو عمرے کی ادائیگی سے روک دیا تھا۔ کورونا وائرس کا پھیلاؤ کم کرنے کیلئے  زیارتِ مسجد نبویﷺ پر بھی عارضی طور پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ رواں برس کورونا وبا کے باعث فروری میں سعودی عرب نے غیر ملکیوں کیلئے عمرے پر پابندی لگائی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز