تہرے قتل کا معاملہ:سپریم کورٹ کا2ہفتوں میں ملزمان گرفتارکرنےکاحکم

ملزم طلحہ ہارون کی امریکہ حوالگی روکنے کے حکم امتناع میں توسیع

فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سندھ میں تہرے قتل کے ملزمان کو2 ہفتوں میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے سندھ پولیس کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ڈی آئی جی سے کہا کہ آپ اس عہدے کے قابل نہیں اگر ملزمان گرفتارنہیں کیے تو نوکری سے فارغ ہو جائیں گے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ کی کوششیں کھڈے کھودنے کے برابر ہے، آپ کو جو کام دیا گیا ہے وہ کرکے آئیں۔ عدالت میں پولیس نے جو رپورٹ دی وہ ایک رام کہانی ہے۔

ڈی آئی جی حیدرآباد نے عدالت کو بتایا کہ مفرورملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دو مفرور ملزمان کو اگلے ہفتے تک گرفتار کرکے لائیں، آپ کو ایک ہفتے سے زائد کا وقت نہیں دیں گے۔ آپ کس پولیسنگ کی بات کررہے ہیں؟ آپ ریاست کی مشینری ہیں۔ پولیس والے کاغذوں سے باہر نکلیں، دو ملزمان مفرور ہیں،گرفتار کریں۔

درخواستگزار ام رباب کے والد، چچا اور دادا کو بااثر ملزمان نے قتل کردیا تھا۔ انہوں نے مقدمہ منتقلی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس پر عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس لیا۔

ام رباب کے مطابق نامزد ملزمان ارکان سندھ اسمبلی اور بہت زیادہ طاقتور ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق17 جنوری 2018 کو ضلع دادو کے تعلقہ میہڑ میں تین افراد کے قتل کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیدو اور ان کے بھائی برہان چانڈیو سمیت سات افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔

مقتولین کے لواحقین کا الزام تھا کہ ایم پی اے سردار خان چانڈیو کے کہنے پر برہان چانڈیو نے پولیس پروٹوکول کی موجودگی میں مختار چانڈیو، کابل چانڈیو اور کرم اللہ چانڈیو کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز