جہانگیر ترین نے شوگر ملز سے متعلق جواب ایف آئی اے میں جمع کرادیا

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو جے ڈی ڈبلیو شوگر گروپ سے متعلق جواب جمع کرا دیا۔

ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین نے اپنے وکیل جہانگیر ترین کمپنی کے قانونی مشیر مقصود احمد ملہی کے ذریعے 11 والیمز پر مبنی دستاویزات بھی ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کو جمع کرادیے گئے۔

جہانگیر ترین نے اپنے جواب میں کہا کہ جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے 12 ہزار سے زائد افراد کو براہ راست روزگار دیا۔ 50 ہزار سے زائد کاشت کار اور ٹرانسپورٹرز کوبھی روز دیا گیا۔

جمع کرائے گئے جواب جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ 3 سال میں گنے کے کاشت کاروں کو 81 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔ جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز گروپ سالانہ 15 ارب روپے کا ٹیکس قومی خزانے میں جمع کراتی ہیں۔

خیال رہے کہ 4 اپریل کو حکومت کی جانب سے آٹا اور چینی کے بحران سے متعلق رپورٹ میں  انکشاف ہوا تھا کہ حکومت کا حصہ رہنے والے رہنماؤں کی شوگر ملز نے کروڑوں روپے کا ہیر پھیر کیا۔

رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین نے چھپن کروڑ، خسروبختیار کے بھائی نے پینتالیس کروڑ اور مونس الہیٰ گروپ نے چالیس کروڑ کمائے ۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بحران سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ تر شوگر ملز کے مالکان کا تعلق سیاسی خاندانوں سے تھا۔  کئی حکومت میں ہونے کی وجہ سے پالیسیوں پر بھی اثرانداز ہوتے رہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملک میں چینی کا مصنوعی بحران کا آغاز پنجاب حکومت کے چینی کی برآمد سے متعلق فیصلہ سے ہوا۔ پنجاب حکومت نے چینی کی برآمدات پر تین ارب روپے کی سبسڈی دی، تو شوگر ملز مالکان کی چاندی ہوگئی۔

مزید پڑھیں: لندن میں زیر علاج ہوں، ایف آئی اے میں پیش نہیں ہو سکتا، جہانگیر ترین

رپورٹ کے مطابق جہانگیر خان ترین کو اس فیصلے سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔ جہانگیرترین کے جی ڈی ڈبلیو گروپ نے ان تین ارب روپے کا بائیس فی صد حصہ کمایا، جو کہ تقریبا چھپن کروڑ روپے بنتے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار خان کی شوگر مل نے 45 کروڑ کمائے۔

حکومتی رپورٹ کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کے فرزند مونس الہیٰ گروپ نے چالیس کروڑ روپے پر ہاتھ صاف کیا ۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا چینی کی برآمدات پر تین ارب روپے سبسڈی اور برآمد کے بعد ملک میں چینی کی قیمتیں بڑھنے سے ڈبل فائدہ اٹھایا گیا۔ملک میں ذخیرہ اندوزی اور سٹے کے ذریعے قیمتیں بڑھائی گئیں، جس میں کروڑوں روپے کمائے گئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ چھ شوگرملز گروپ پاکستان کی اکاون فی صد چینی کی پیدوار کنٹرول کررہے ہیں۔ ان چھ گروپس کا تعلق پاکستان کے سیاسی خاندانوں سے ہے۔

جہانگیر ترین نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ شوگر انکوائری رپورٹ کے مطابق انہوں نے 12 فیصد چینی برآمد کی جبکہ ان کا مارکیٹ شیئر 20 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ رپورٹ میں واضح ہے کہ میں نے اپنے حصے سے بھی کم چینی برآمد کی، میری ملز کو ملنے والی 3 ارب روپے سبسڈی میں سے اڑھائی ارب روپے تب ملے جب حکومت ن لیگ کی تھی اور میں اپوزیشن میں تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز