ریلوے حکام ٹریکٹر لیکر جائیں اور ساری تجاوزات گرا دیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس گلزار احمد نے ریلوے کی جانب سے تجاوزات سے متعلق جمع کرائی گئی رپورٹ پرعدم اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ متعلقہ حکام ٹریکٹر لیکر جائیں اورساری تجاوزات گرا دیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو سرکاری زمین کی پرواہ نہیں۔ ریلوے ٹریک کے ساتھ زمین پر قبضہ ہے، تو ٹرین کیسے چلے گی۔؟؟

چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ میں تصویروں سے لگتا ہے ریلوے کی ساری زمین پر تجاوزات ہیں۔ ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف تعمیرات اور بلڈنگز بنی ہوئی ہیں۔

چیف جسٹس نے کراچی میں ریلوے لائن کے انڈر پاسز سے متعلق استفسار کیا تو سندھ حکومت کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ایف ڈبلیو او نے 11 انڈر پاسز کا سروے کر لیا ہے، باقی 13کا بھی سروے جلد ہوجائے گا۔

اس  پرچیف جسٹس نے کہا کہ تعمیرات ایسی نہ ہوں جو شہر میں دھبہ بن جائیں۔ ریلوے کی زمین واگزار کرائیں۔

سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو ریلوے کی زمین پر قبضہ ختم کرانے کی یقینی دہانی کروائی۔ عدالت نے پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھرتیوں کی ناقص پالیسی پر سپریم کورٹ نے ملازمین کی مستقلی کے متعلق ریلوے کی اپیل خارج کر دی تھی۔

مزید پڑھیں: پاکستان ریلوے11ماہ میں 74 حادثات کا شکار ہوئی، وزارت کا اعتراف

بھرتیوں کی ناقص پالیسی پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریلوے پر اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریلوے میں ملازمین کی بھرتیوں پر کوئی پالیسی نہیں۔ ریلوے انتظامیہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریلوے میں کوئی سسٹم ہی نہیں جس کے تحت لوگوں کو نوکری پر رکھیں۔ ملازمین دس دس سال سے ریلوے میں ملازمت کر رہے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا تھا کہ بھرتیوں کے وقت قابلیت اور میرٹ کیوں نہیں دیکھا جاتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ریلوے ملازمین کو رکھ لیتا ہے اور پھر کہتا ہے ہمارے پاس کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔

مذکورہ کیس میں قبل ازیں سپریم کورٹ نے محکمہ ریلوے کے 76 ہزار ملازمین کی چھانٹیوں کا حکم دیا تھا اور سیکرٹری ریلوے کو بھی عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ٹی ایل اے میں 2 ہزار 712 اور ریلوے میں کل 76 ہزار ملازمین ہیں۔ 142 مسافراور120 گڈز ٹرینیں چل رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری ریلوے کے بیان پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ آپ نے 76 ہزار ملازمین رکھے ہوئے ہیں۔ ریلوے کا نظام چلانے کےلیے تو10 ہزار ملازمین کافی ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ ریلوے میں بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔ ریلوے میں یا تو جانیں جاتی ہیں یا پھر خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے اور ملازمین خود اپنے محکمے کے ساتھ وفادار نہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز