کراچی: ہائی وے حادثہ، جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہو گئی، متعدد زخمی


کراچی سپرہائی وے پرمسافر وین میں آگ لگنے سے 15 مسافر جھلس کر جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ دو زخمیوں نے دوران علاج اپنی جانوں کی بازیاں ہار دی ہیں۔ اس طرح سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

اسکردو: ٹریفک حادثہ، 15 نعشیں مل گئیں، 13 کی تلاش جاری

ہم نیوز کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی نعشوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نعشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہو گی کیونکہ جھلسنے کے باعث نعشیں تاحال نا قابل شناخت ہیں۔

حیدرآباد، لطیف آباد نمبر پانچ کے رہائشی ایک ہی گھر کے پانچ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لطیف آباد نمبرپانچ کے علاقے سے ایک ہی گھرانے کے چھ افراد کراچی کیلئےروانہ ہوئے تھے۔

اس ضمن میں ورثا کا کہنا ہے کہ چھ افراد میں سے ایک نوجوان گھر پہنچ گیا ہے جس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ لطیف آباد 12 نمبر کے رہائشی بھی ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے تین افراد بھی لاپتہ بتائے گئے ہیں۔

جاں بحق افراد میں سے ایک کی شناخت 25 سالہ عبدالرشید کے نام سے ہوئی ہے جو برنس وارڈ میں زیرعلاج تھا۔

کراچی: تین ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 60 افراد زندگی کی بازی ہار گئے

اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تمام نعشیں بری طرح جھلس چکی ہیں جس کی وجہ سے بائیو میٹرک شناخت بھی ممکن نہیں رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ لازمی ہو گا جس کے لیے نمونے حاصل کیے جارہے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والے کسی شخص کی تاحال حتمی شناخت نہ کی جاسکی ہے۔ اس سلسلے میں حکام کا کہنا ہے کہ کوئی گھڑی تو کوئی انگوٹھی اپنے پیارے کی نشانیاں بتا کرنعش لے جانا چاہتا ہے لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے تک نعش کو ورثا کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی کا کہنا ہے کہ تمام نعشیں نا قابل شناخت ہیں اور ان کے ڈی این اے سیمپلز لیے جا رہے ہیں۔ حادثے میں زخمی افراد کو حیدر آباد اور کراچی کے سول اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

جعلی کاغذات پر گاڑیوں کی رجسٹریشن،ایکسائز ملازمین کیخلاف مقدمہ درج

اسپتال انتظامیہ کے مطابق چونکہ کسی بھی نعش کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اس لیے تمام پرچیاں نامعلوم افراد کے نام پر بنائی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے افسوسناک سانحہ کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ سے اس ضمن میں رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ جو بھی اس کا ذمہ دار ہوا اسے لازمی قرار واقعی سزا دیں گے۔

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق مسافر وین حیدر آباد سے کراچی آ رہی تھی کہ ٹائی راڈ ٹوٹنے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گئی ۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثے کی وجہ سے جب وین الٹی تو وائرنگ میں آگ لگ گئی جس نے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

 قلعہ سیف اللہ کے قریب ٹریفک حادثے میں 6 افراد جاں بحق

بدقسمت گاڑی کے ڈرائیور کا کہنا ہے کہ وین میں فوری طور پر آگ نہیں لگی تھی کیونکہ میں نے خود شیشہ توڑ کر ایک بچی اور مسافر کو باہر نکالا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد جب میں دیگر مسافروں کو نکالنے کی کوشش کر رہا تھا تو اسی دوران گاڑی میں آگ لگ گئی جو مزید تباہی کا سبب بنی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز