قبائلی علاقوں کی خوشحالی افغانستان میں امن سے مشروط ہے،وزیراعظم


پشاور: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں تجارت اور خوشحالی افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔

مہمند میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کی جانب اچھا اقدام کیا گیا ہے۔طالبان اور حکومت میں مفاہمتی عمل شروع ہوا ہے۔ ہماری دعا ہے افغانستان میں امن ہو۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تجارت کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں ترقی ہوگی۔ جب سے پاکستان بنا ہےقبائلی علاقے میں خوشحالی نہیں آئی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ تین صوبے قبائلی اضلاع کے لیے تین فیصد فنڈز دینے کو تیار نہیں جس کے باعث ترقیاتی کاموں میں مشکلات درپیش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے افغانستان بارڈر کیساتھ باڑ لگا دی ہے تاکہ اسمگلنگ روکی جا سکے اور ہم بارڈر مارکیٹیں کھول رہے ہیں تاکہ لوگوں کو روزگار ملے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بہت سارےعلاقے ترقی میں  پیچھے رہ گئے ہیں۔ کمزور طبقے کو اوپر لانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام پالیسیوں کا مقصد کمزور طبقے کو اوپر لانا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں کو پورے فنڈزملیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں ترقی کے کام کریں گے اور ہم قبائلی علاقوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا ملک دشمن عناصر قبائلی علاقوں کے انضمام میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں۔

بعد ازاں وزیراعظم پشاور جائیں گے جہاں گورنر، وزیر اعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے اراکین سے ملاقاتیں طے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پشاور میں اجلاس بھی ہوگا جس میں محکموں کی کارکردگی پر بریفنگ دی جائے گی۔

عمران خان کو بی آر ٹی اور قبائلی امورسے متعلق بریف کیاجائے گا۔  وزیراعظم سڑک کی تعمیر اور بجلی گریڈ اسٹیشن کا افتتاح کریں گے۔

گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان نے لاہور کا دورہ کیا تھا، وزیر اعظم نے گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی تھی۔

ان کے دورے کے دوران گورنر ہاؤس لاہور میں وزیر اعظم سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب نے بھی ملاقات کی تھی اور انہیں صوبے کے انتظامی و سیاسی امور پر بریف کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں