معروف شاعر محسن بھوپالی کا 88واں یوم پیدائش آج

معروف شاعر محسن بھوپالی کا 88واں یوم پیدائش آج

فوٹو: فائل

اسلام آباد: نظم اور غزل میں بے مثال خزانہ چھوڑنے والے معروف شاعر محسن بھوپالی کا 88واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے۔

اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں 29 ستمبر 1932 کو پیدا ہوئے۔

محسن بھوپالی کا اصل نام عبدالرحمن تھا۔ 1947ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے اور لاڑکانہ میں سکونت پذیر ہوئے۔

تمہیں آسائشِ منزل مبارک
ہمیں گردِ مُسافت بہت ہے

این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے اور اس ادارے سے ان کی وابستگی 1993ء تک رہی۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ء سے ہوا۔ ان کی جو کتابیں شائع ہوئیں ان میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترقی پسند شاعر احمد فراز کو بچھڑے بارہ برس بیت گئے

محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری نے انجام دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔

وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔ محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے، ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کر چکے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔

تلقین صبر و ضبط وہ فرما رہے ہیں آج
راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

17 جنوری 2007ء کو محسن بھوپالی دنیا سے رخصت ہوئے اورکراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز