نواز شریف بھارت کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، عمران خان

سرکاری ملازمین کے مسائل: وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دے دی

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف پاکستان کےخلاف خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، وہ بھارت کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں،بھارت پاکستان کو کمزور بنانا چاہتا ہے۔۔ نوازشریف سے پوچھا جائے انہیں فوج سے کیا مسئلہ ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا مائنڈ سیٹ جمہوری نہیں۔ نوازشریف کرپشن کرنے کیلئے حکومت میں آتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے عدلیہ اور دیگر اداروں کو کنٹرول میں رکھا۔ نوازشریف امیر المومنین بننا چاہتے تھے، ان کی ہر آرمی چیف سے لڑائی رہی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نام نہاد جمہوریت پسندوں نے ملکی ادارے تباہ کردیے۔ نوازشریف بے شرمی سے جھوٹ بول کر گئے۔ کہ بیماری کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ ہے اور اب لندن میں بیٹھ کر اپنا پیسہ بچانے کے لیے پاکستان کے اداروں کو بدنام کررہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت این آر او نہیں دیں گے۔ چوروں کا دباوَ برداشت کرگئے تو ملک بدل جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نوازشریف کو ہاتھ  پکڑ کر سیاسی بنایا گیا۔ نوازشریف ہمارے سامنے وزیر بنے۔ نوازشریف کو فوج نے پالا ہے۔ نوازشریف سے پوچھا جائے انہیں فوج سے کیا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کون کتنی کرپشن کررہا ہے سب پتہ چل جاتا ہے۔ نوازشریف کا جمہوری ذہن نہیں،جمہوریت میں قیادت جوابدہ ہوتی ہے۔ نوازشریف جواب ہی نہیں دینا چاہتے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مال بنانے کے لیےاقتدار چاہتی ہیں۔ اپوزیشن کا مائنڈ سیٹ جمہوری نہیں۔ بھارت نوازشریف کی مددکررہاہے۔ نوازشریف باہر بیٹھ کراداروں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ نوازشریف بیماری کا بہانہ بناکر باہر گئے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ نوازشریف مرنے والے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کا ایجنڈا صرف مال بچاناہے۔ نوازشریف سے متعلق 6 گھنٹے طویل کابینہ اجلاس ہوا۔ نوازشریف بزدل آدمی ہیں انہیں بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔ کسی کی چوری بچانے کے لیے لوگ باہر نہیں نکلتے۔ نوازشریف دباوَ ڈال کر این آر او لینا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اقتدار چھوڑنے کو ترجیح دوں گا لیکن ان کواین آراو نہیں دوں گا۔ جن عدالتوں نے ان کو ریلیف دی اب ان پرحملے کررہے ہیں۔ ہمیں تو لگتا تھا کہ نوازشریف جہازکی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکیں گے۔ ڈاکٹر فیصل اور یاسمین راشد سے بار بار کہا کہ نوازشریف کو چیک کریں۔ کسی کو بھی نوازشریف پر یقین نہیں تھا،۔

عمران خان نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی تاریخ میں بہت بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ ملک کے بڑے بڑے ڈاکواکٹھے ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد پہلےخطاب میں کہا تھاکہ یہ سب اکٹھے ہوں گے۔ انہوں نے نیب،عدلیہ اور فوج پر دباوَ ڈالنا ہے۔ ملک چوروں کے خلاف کھڑا ہوگیا تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ چوروں کا دباوَ برداشت کر گئے تو ملک بدل جائے گا۔ 10 سال میں ان لوگوں نے ملک پر مزید قرضہ چڑھایا۔ اب ہم سے کہا جارہاہےکہ اس کاجواب دیں۔

،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شریف فیملی کی 22 شوگرملز ہیں، منی لانڈرنگ کے لیے ملازمین کے اکاوَنٹس استعمال کیے گئے۔ پانامہ کا ان سے جواب مانگا تو نوازشریف نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا۔ نوازشریف نےمجھے بلیک میل کرنے کے لیے جھوٹے کیس بنائے۔ سپریم کورٹ نےجوبھی دستاویزات مانگیں پیش کیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ شریف فیملی نے جےآئی ٹی میں بھی جھوٹ بولا۔ یہ چاہتے ہیں میں استعفیٰ دے دوں  تاکہ یہ بچ جائیں۔ مجھے ملک کےعوام نے منتخب کیا ہے۔ چوروں کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ کہا تھا کہ اقتدار میں آیا تو کوئی بزنس نہیں کروں گا۔ آج بزنس شروع کردوں توسب آسان ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میرے کوئی بے نامی اکاوَنٹ نہیں ہے۔ شریف خاندان کا اقتدار سے پہلے اور بعد میں کاروبار دیکھیں۔ اپوزیشن نے نیب قوانین میں ترمیم کی کوشش کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کو انسانی بنیادوں پر باہر جانے کی اجازت دی۔ نوازشریف مجرم ہیں،ہر صورت واپس لایاجائے گا۔ نوازشریف غیر ملکیوں کے ساتھ مل رہے ہیں۔ نوازشریف پاکستان کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ نوازشریف کی واپسی کے لیے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ نوازشریف جھوٹ بول کراور دھوکہ دے کر باہر گئے۔

مزید پڑھیں: گرفتاری کا کوئی خوف نہیں، مریم نواز

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز نے کہا کہ ملک مشکل میں ہے، ہم کہاں جارہے تھے اور آج کہاں ہیں؟ کوئی مجھے خاموش کرانے کی کوشش نہ کرے۔ پاکستان کے حالات دیکھ کر چپ نہیں رہ سکتا۔

پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے لاہور میں ہونے والےاجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ میں جو علم بلند کر رہا ہوں، کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟

انہوں نے کہا کہ ن لیگ جیتی ہوئی تھی لیکن ہروایا گیا۔ جو کچھ بھی ہورہا ہے میں اس پر خاموش نہیں رہوں گا۔ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا۔

اجلاس سے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ ملکی حالات کو دیکھتا ہوں تو دکھ محسوس کرتا ہوں۔ ہم نے ماضی میں منصوبوں پر کامیابی سے کام کیا۔ جنوبی ایشیا میں اس وقت سب سے پسماندہ ملک پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں دہشت گردی ختم ہوئی اور امن و استحکام کو دوام ملا۔ ہمارے دور میں دنیا پاکستان کی ترقی کی تعریف کررہی تھی۔ ہم نے پاکستان کا نقشہ بدل دیا اور معیشت کو بہترکیا۔ ہمارے دور میں عوام خوش تھے۔

پشاور بی آرٹی کا منصوبہ آج تک پروان نہ چڑھ سکا۔  پشاور بی آرٹی منصوبے پر6 سال لگ گئے۔ ہم نے ڈیڑھ سال میں میٹرو بنائی۔ مشکلات تھیں لیکن ہم نے 4 سال تک روپیہ کو قابو میں رکھا۔ موجودہ حکومت میں ڈالرمہنگا ہوگیا، روپیہ مٹی میں مل گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس:نواز شریف کواشتہاری قراردینےکی کارروائی شروع

سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ اپوزیشن رہنما شہبازشریف کو ناکردہ گناہوں کی سزاد ی جا رہی ہے۔ شہباز شریف کو سنا بھی نہیں گیا، سیدھا جیل لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ہمارا کوئی مقابلہ نہیں ان کو اہمیت نہیں دیتے۔ عمران خان نے کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا، یہ بنی گالا کی ریاست کہاں سے آگئی؟

نوازشریف نے کہا کہ  ہم نے افواج پاکستان کی بڑی خدمت کی، پھرموقع ملا تو دوبارہ کروں گا۔ بارڈر پرڈیوٹی دینے والے فوجیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

نواز شریف نے کہا کہ آ ج پاکستان میں لوگ پریشان ہیں کہ بچوں کو پڑھائیں یا روٹی کھائیں۔ غریب بجلی کی بل دیں،ادویات خریدیں یا روٹی کھائیں؟

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز