وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اپنا پہلا اور حکومت کا آخری بجٹ پیش کریں گے

گرفتاری کا خوف، مفتاح اسماعیل کا سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل آج قومی اسمبلی اجلاس میں پانچ ہزار پانچ سو ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کریں گے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے بجٹ تقریر سے محض چھ گھنٹے قبل مفتاح اسماعیل سے وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف لیا۔

مفتاح اسماعیل سینیٹراسحاق ڈار کے بعد سے مشیر خزانہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

آج پیش کیا جانے والا بجٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا چھٹا اورآخری بجٹ ہوگا۔

پی ایم ایل(ن) کی جانب سےمالی سال 2018-19 کے لیے5،500 ارب روپے کا بجٹ متوقع ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بحیثیت مشیر خزانہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ مالی سال 2018-19 کابجٹ ٹیکس فری ہوگا۔

نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10سے 15فیصد اضافہ متوقع ہے۔

سرکاری ملازمین کےہاؤس رینٹ، میڈیکل اور کنونئس الاؤنس میں بھی اضافے کی توقع ہے۔

نان فائلر ( ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والا ) کے لیے بجٹ میں سخت اقدامات تجویزکیے جاسکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نان فائلر پر پابندی عائد کی جائے گی کہ وہ 40 لاکھ روپے مالیت سے زائد کی جائنداد نہیں خرید سکیں گے۔

آئندہ مالی سال  کے لیے برآمدات کا ہدف 27 ارب 30 کروڑ ڈالرزاور درآمدا ت کا ہدف 56 ارب 50کروڑ ڈالرز مقرر کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

تجارتی خسارےکا ہدف 29 ارب20 کروڑ ڈالرز مقرر کرنے کی تجویزمتوقع ہے۔

انکم ٹیکس چھوٹ کی حد بڑھانے سے 100ارب روپے کاریلیف ملے گا۔

ٹیکسوں اور ڈیوٹی میں ردوبدل متوقع ہے لیکن کوئی نیا ٹیکس لگائے جانے کا امکان نہیں ہے۔

بجٹ میں 200 سے زائد اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کئے جانے کا امکان ہے ،کم ازکم اجرت میں بھی اضافہ  متوقع ہے۔

وفاقی بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے575 ارب روپے رکھنے کی تجویزپیش کی جائے گی۔

بجٹ میں ٹرانسپورٹ اور کمیونیکشن کے لیے 400 ارب روپے مختص کرنے کا امکان ہے۔

دفاعی بجٹ میں 9 سے 10 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

سماجی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے135ارب روپے، تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 57ارب روپے، سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 12ارب روپے رکھنے کی تجویز  پیش کی جائے گی۔

نئے مالی سال میں پنشن کی مد میں 342 ارب روپے، جاری اخراجات کیلئے 445ارب روپے اورقرضوں کی ادائیگی کی مد میں 1607ارب روپے رکھے جائیں گے۔

بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 127ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی پیش کی جائے گی۔

آئندہ مالی سال میں خسارے کا ہدف 5.3فیصد، اقتصادی ترقی کا ہدف 6.2فیصد، لائیو اسٹاک 3.8فیصد ،صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف7.6فیصد، مینوفیکچرنگ 7.8 اورلارج اسکیل منیوفیکچرنگ کا ہدف 8.1فیصد مقرر کرنے کا امکان ہے۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ کے تحت گورننس کے لیے 18ارب روپے، آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور فاٹا کے لیے 72 ارب روپے مختص کیےجانے کی توقع ہے۔

عارضی و بے گھر افراد کی بحالی اورسیکیورٹی کے لیے 105 ارب روپے رکھنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

مالی سال 2018-19میں زرعی ترقی کا ہدف 3.8فیصد رکھنے کاامکان ہے۔

آئندہ مالی سال کے لیے خدمات شعبے کا ہدف 6.5فیصد، اقتصادی شرح نمو کا ہدف  6.2فیصد، نیشنل سیونگز13.2 اور فارن سیونگز کا ہدف 3.8فیصد مقرر کیا جائے گا۔

بجٹ میں افراط زر 6فیصد ، سرمایہ کاری کا ہدف 17.2فیصد، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 12 ارب 50 کروڑ ڈالرز مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

آئندہ مالی سال بیرونی وسائل سے 13 ارب ڈالرز حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پہلے پانچ بجٹ سینیٹراسحاق ڈار نے پیش کئے۔

ن لیگ کی حکومت میں کسی رکن قومی اسمبلی کو وزیرخزانہ بننے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز