سارے ڈاکو این آر او مانگ رہے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اپوزیش رہنماوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سارے ڈاکو اکھٹے ہو کر این آر او مانگ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں نسٹ یونیورسٹی میں کارڈیک اسٹنٹ کی تیاری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این آر او دینا آسان ہے لیکن ملک کی تباہی ہے۔ این آر او دے دوں تو زندگی آسان ہو جائے گی، ہم بھی پارلیمنٹ میں چار سال آرام سے تقریریں کریں گے، بہتری کا راستہ آسان نہیں ہوتا ، لیکن مشکل فیصلے ہی آپ کو آگے لے کر جاتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان غلط سمت میں نکلا ہوا تھا اور ہم اس کو درست سمت میں گامزن کریں گے۔ قومیں طے کرتی ہیں کہ جاناکدھر ہے، لیکن ہمارا وژن دھند لا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کی ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ 60 کی دہائی میں ہماری ایکسپورٹ بڑھ رہی تھی لیکن70 میں ایک کنفیوذ مائنڈ سیٹ اقتدار میں آگیا اور پاکستان کی انڈسٹریلائزیشن کو چوک کردیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو ملک نیوکلیئر ٹیکنالوجی بنا سکتا ہے وہ کچھ بھی بنا سکتا ہے لیکن ہمارے ادارے آپس میں منسلک نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہی قوم ترقی کرتی ہے جو ایکسپورٹ کرتی ہے۔ ہم نے حکومتی اداروں کو بتانا ہے کہ ان کی مدد کریں جو پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔

ہمارے ملک میں منافع کمانے کو جرم سمجھا جاتا ہے اور رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ ہم اس سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں نئے کاروباری افراد کو سہولیات دی جائیں۔ تبدیلی دماغ  کے استعمال سے آتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماراسب سے بڑا مسئلہ بیرون ملک سے اشیا کی مانگ تھی یہی وجہ ہے کہ ہرکچھ عرصے بہت ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ ہمارا یہ فیصلہ کہ اپنے ملک میں اشیا تیار کریں گے، کامیاب ثابت ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا جب تک ہم اپنی ایکسپورٹ نہیں بڑھائیں گے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری نہیں ہوگی توملک آگےکیسےبڑھےگا۔ کوئی ملک ملائیشیا کی طرح صرف ربڑاور ٹین بیچ کرترقی نہیں کرسکتا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے ایکسپورٹ کوبڑھایا اور ان کا ملک ترقی کرتا گیا۔ ملکی ترقی کےلیےڈالر آنے چاہیے نہ کہ باہرجانے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بہتری کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ مشکل فیصلے انسان کو کامیاب کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے اداروں میں باہمی تعاون کا فقدان ہے۔

متعلقہ خبریں