ہمیں یہ کٹھ پتلی حکومت منظور نہیں ہے، مولانا فضل الرحمان


کراچی: پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ دھاندلی کی حکومت کو تسلیم کر لیں، ہمیں دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن آج بھی ہم اپنے موقف پر قائم ہیں.

کراچی میں پی ڈی ایم جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ کٹھ پتلی حکومت منظور نہیں ہے۔

فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کی چوری پکڑی گئی ہے ،مریم نواز

انہوں نے کہا کہ ہم نے کراچی سے آزادی مارچ کا آغاز کیا تھا، پی ڈی ایم درحقیقت آزاد جمہوری فضاوَں کو بحال کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18 اکتوبر ہمیں شہدا کارساز کی یاد دلا رہا ہے،آج کے دن بینظیر بھٹو کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا،حملے میں 200 کارکن شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ن لیگ نے آخری بجٹ میں معاشی ترقی کیلئے تخمینہ ساڑھے 6 فیصد لگایا تھا جب کہ یہ پہلے سال معاشی ترقی 1.8 پر لے آئے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی کشتی ڈوبنے سے ریاستیں اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں، سویت یونین کی مثال سب کے سامنے ہے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ انہوں نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا خواب 26 لاکھ لوگوں کو بیروزگار کرنے پر ختم ہوا، تجاوزات کے نام پر 50 لاکھ گھر گرا دیئے گئے، ان کو بیرزگار کرنا آتا ہے،روزگار دینا نہیں آتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ایک غریب آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے، آج لوگ اپنے بچوں کو بوجھ نہیں اٹھا پا رہے، دنیا میں انقلاب دولت مند نہیں غریب لوگ لایا کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ جلسےمیں بیٹھے لوگ پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑرہے ہیں، یہ توممکن نہیں کہ ہم اس حکومت کو تسلیم کرلیں،ہم اس ملک میں عزت نفس کے ساتھ جینا چاہتے ہیں ۔

فضل الرحمان نے کہا کہ  آزادکشمیر کے وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ کریں تو ہندوستان میں اس کا کیا ردعمل ہو گا، یہ مقدمہ مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ  صوبوں کے اختیارات کم کریں تو اس سے بغاوتیں پیدا ہوں گی، سندھ اور بلوچستان کی جزیروں پر قبضہ کے فیصلے کو عوام قبول نہیں کریں گے۔ صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام جماعتیں متفق ہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ  آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے حقوق میں اضافہ ہو سکتا ہے کمی نہیں ہو سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، سندھ کی تقسیم کا اختیار سندھ کے عوام کو ہو کسی اور نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ناکام خارجہ پالیسی نے پاکستان کو تنہائی کی طرف دھکیل دیا، چین کی دوستی کو ہمالیہ سے بلند ،سمندر سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی تھی۔

اپنی بات رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کی دوستی اقتصادی دوستی میں تبدیل ہو گئی تھی تاہم چین کے اعتماد کو آپ نے ٹھیس پہنچایا،  ایران ہمارے ہمسایہ ہونے کے باوجود ہندوستان کے کیمپ میں ہے اور سعودی عرب ہم سے ناراض ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز