سعودی صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر مقدمہ

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر مقدمہ

اسلام آباد: ترکی کے شہر استنبول میں 2018 کو قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں دائر کیے گئے مقدمے میں ترک شہری خدیجہ چنگیز نے جمال خاشقجی کی موت پر ذاتی اور مالی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کو محمد بن سلمان کی ہدایت کے مطابق قتل کیا گیا تھا۔ تاہم سعودی ولی عہد نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دینے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

جمال خاشقجی کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر 2018 میں قتل کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ جمال خاشقجی قتل کیس میں سعودی عرب کی عدالت نے آٹھ افراد کو سزا سنائی تھی۔ آٹھ افراد کو مجموعی طور پر 124 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مزید پڑھین: جمال خاشقجی کے بیٹوں کا والد کے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان

ہم نیوز نے سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا تھا کہ پانچ مجرمان کو 20/20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ  ایک مجرم کو دس سال اور دو مجرمان کو سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ریاض کی فوجی عدالت نے آٹھ افراد کو قتل کا مجرم قرار دیا تھا ۔ یہ فیصلہ فوجداری قانون کی دفعہ 210 کے بموجب حتمی تھا۔

ایس پی اے نے پبلک پراسیکیوشن کے ترجمان کے حوالے سے بتایا تھا کہ آٹھ افراد کو 124 برس قید کی سزائیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالت کا یہ فیصلہ حتمی ہے اور واجب التعمیل ہے۔ فوجداری قانون کی دفعہ 212 کے تحت اس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں مقتول کے ورثا کی جانب سے اپنے حق سے دستبرداری کے بعد دی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز