ناسا کی خلائی گاڑی مشکل کا شکار

امریکی خلائی ادارے ناسا کی خلائی گاڑی کے لیے زمین سے لاکھوں نوری سال کی دوری پر موجود بینوں (Bennu)‌ نامی سیارچے سے حاصل کئے گئے نمونے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق  ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مشن اپنے بنیادی مقصد میں تو کامیاب ہو گیا لیکن اس نے سیارچے کے نمونے اپنی وزن اٹھانے کی صلاحیت سے زیادہ جمع کر لیے ہیں۔ اب اس خلائی جہاز کو واپسی کا سفر شروع کرنے سے قبل مشکل کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خصوصی کنٹینر میں رکھے گئے پتھریلے ٹکڑے  خلا میں بکھر رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ خلائی گاڑی 2023 میں زمین پر واپس آنا تھی تاہم گاڑی کے کنٹینر میں موجود باقی پتھریلے ٹکڑوں کو بچانے کے لیے گاڑی کو اگلے سال ہی زمین پر واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز  ناسا کا خلائی جہاز تاریخ میں پہلی بار  سیارچے پر کامیابی سے اترا تھا۔

سیارچے سے خلائی جہاز کے ذریعے ماہرین نے مٹی اور پتھر اکھٹے کیے تھے جب کہ ناسا نےخصوصی تقریب کے دوران مشن کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی تھیں۔

ناسا کے خلائی ماہرین کا کہنا تھا کہ سیارچے سے حاصل کیے جانے والے نمونوں کے مشاہدے کے بعد نظام شمسی کے ارتقا اور زمین کے آباد ہونے سے متعلق جوابات مل سکیں گے۔

ناسا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بینوں کا شمار نظامِ شمسی کے قدیم ترین سیارچوں میں ہوتا ہے، یہ اکتوبر 2020 میں زمین سے 20 کروڑ 70 لاکھ میل کے فاصلے پر موجود تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس مشن کا آغاز ستمبر 2016 میں ہوا، جہاز نے دو سالوں میں 101 دن کا سفر کر کے 1 ارب 25 کروڑ میل کا فاصلہ طے کیا۔

مزید پڑھیں: چاند کی مٹی اور پتھر زمین پر لانے کیلیے ناسا نے نجی کمپنیوں سے مدد حاصل کرلی

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ناسا نے نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی دو تازہ ترین تصاویر جاری کی تھیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق  ہبل دوربین کی مدد سے لی گئی ان تصاویر میں سیارے پر صدیوں سے موجود تاریخی ریڈ اسپاٹ اور اس کے چاند یوروپا کے علاوہ بہت بڑا طوفان بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ طوفان کو 560 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ ریڈ اسپاٹ کی طرح یہ طوفان بھی اب مشتری کا مستقل حصہ بن جائے گا اور سیارے کی آئندہ لی جانے والی تصاویر میں بھی نظر آتا رہے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قطل ناسا نے چاند کی مٹی اور پتھروں کو زمین پر لانے کے مشن کی تکمیل کے لیے نجی کمپنیوں سے مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا اور سپیس ایکس کا تاریخی خلائی مشن شروع

امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق ان کی ٹیم اگلے مشن کے لیے چاند کی سطح کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ناسا کے اگلے مشن کے لیے پہلی بار خاتون کو چاند  پر اتارا جائے گا، آرٹیمس نامی مشن کے لیے آئندہ پانچ برسوں کے دوران 20 سے 30 ارب ڈالر رقم مختص کی گئی ہے۔

اس وقت ناسا میں محض 12 فی میل خلا باز کام کر رہی ہیں جو کل تعداد کے ایک تہائی حصے  سے بھی کم ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز