فضائی آلودگی سے متعلق آگاہی، اسلام آباد میں سائیکل ریلی

فضائی آلودگی سے متعلق آگاہی، اسلام آباد میں سائیکل ریلی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ سے متعلق آگاہی دینے کے لیے سائیکل ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

آبپارہ اسسلام آباد کے روز اینڈ جیسمین گارڈن سے شروع ہونے والی سائیکل ریلی سرینا چوک پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔

گاڑی کی جگہ سائیکل چلانے اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور اسموگ سے ماحول کو بچانے سے متعلق سائیکل ریلی میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ماحولیات ملک امین اسلم، طلبہ اور خواتین سمیت شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ملک مین اسلم نے سائیکلنگ کو ماحول دوست اور صحت مند سرگرمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایندھن کا کم استعمال فضائی آلودگی میں کمی کا سبب بنتی ہے۔ لوگ گاڑیوں کی جگہ سائیکلنگ کو فروغ دیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جاسکے۔

ریلی میں شریک شہریوں نے اسلام آباد میں  سائیکل کے لیے مزید ٹریکس بنانے کا مطالبہ کردیا۔

خیال رہے کہ مارچ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) عامر احمد علی اور سابق میئر اسلام آباد انصر عزیز کو اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی کے متعلق میں کیس طلب کر کے ان کی سرزنش کی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھت کہ سی ڈی اے کا اپنے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں اور ان کلرک چیئرمین سے زیادہ طاقتور ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ شہر کا بلیو ایریا کوڑا کرکٹ سے بھرا پڑا ہے، ایک پلازے والوں نے سروس روڈ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اسلام آباد شہر کو اتنا پھیلایا کیوں جا رہا ہے؟ کیا پورے اسلام آباد کو صنعتی زون بنانا چاہتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:ماحولیاتی آلودگی کیس: چیئرمین سی ڈی اے اور میئراسلام آباد عدالت طلب

جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ سی ڈی اے رپورٹس میں اچھی انگریزی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، دوبئی والے اپنی ایکسپائر چیزیں پاکستان بھجوا دیتے ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی تھی کہ اسلام آباد کی اپنی فوڈ اتھارٹی بنائیں اور ایسی صنعتوں کو نہ چلائیں جو شہر آلودہ کریں اور ہمیں سی ڈی اے اقدامات کا رزلٹ نظر آنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ آپ کے کینال کچرے سے بھرے ہوئے ہیں، کینال کے اطراف کوئی حالات نہیں کوئی آدمی وہاں جا نہیں سکتا، جو لوگ بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں انھیں احساس نہیں ہے اور اپنے بنگلوں کے سامنے کچرے کا ڈھیر لگا دیتے ہیں۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ شہر کو خوبصورت بنانا آپ کا کام ہے، اس شہر کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، شہر کا معیار بنائیں، شہر میں بیٹھنے کی چلنے پھرنے کی جگہ ہونی چاہیے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز