پاکستان کی کابل میں تعلیمی مرکز کے باہر دہشتگردوں کے حملے کی مذمت

پاکستان نے گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد کردیا

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تعلیمی مرکز کے باہر دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی ہے۔

ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چودھری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کابل میں دہشت گرد حملے میں کئی معصوم انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، متاثرین کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ کابل میں آج ایک تعلیمی مرکز پر ہونے والے خودکش حملے میں 13 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے ہیں۔

افغانستان: پاکستانی قونصل خانے کے باہر بھگدڑ سے 15افراد ہلاک

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق خودکش حملہ کابل کے جنوب میں ایک تعلیمی مرکز میں ہوا ہے۔ خود کش حملے میں زخمیوں ہونے والے افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

خودکش حملے کے بعد سیکیورٹی حکام نے دھماکے کی جگہ کی ناکہ بندی  شروع کردی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ خودکش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت فوری طور پر نہیں ہوسکی ہے۔

افغان وزارت ترجمان سعید جامی کے مطابق خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی میتیں اسپتال لائی گئی ہیں، جبکہ 30 زخمیوں کو ایمبولینسز میں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ  دھماکے کی نوعیت سے متعلق ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ خود کش حملہ تھا اور اور اس کا ٹارگٹ کوثر دانش (Kawsar-e Danish) تعلیمی ادارہ تھا۔

افغان طالبان نے تاہم خودکش حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز