16ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا منفرد بارڈر

منفرد بارڈر

فائل فوٹو

ہنزہ کو خوابوں کی حسین سرزمین کہا جاتا ہے۔ خوبصورت مقامات یہاں کی پہچان ہیں تو پاک چائنہ بارڈر میں بھی سیاحوں کے لیے پرکشش ہے۔

موسم خزاں میں بھی اس مقام کی کشش میں کمی نہیں آئی اور سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں آتی ہے۔ موسم چاہے سردی کا ہو یا گرمی کا ہر موسم میں سیاح پاک چائنہ باڈر رخ کرتے ہیں۔

خنجراب پاس دنیا کا بلند ترین بین الاقوامی بارڈر ہے۔  سطح سمندر سے سولہ ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر واقع اس بارڈر کو منفرد حیثیت حاصل ہے۔

دنیا کی چھت کہلانے والے درہ خنجراب پر من چلے بھنگڑے ڈال کر خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ سیاح ان یادگار لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں بھی محفوظ کرتے ہیں۔

خنجراب پاس دنیا کا بلند ترین بین الاقوامی بارڈر ہے سطح سمندر سے جس کی بلندی 16 ہزار 200 فٹ ہے۔ اس درے سے گزرنے والی شاہراہِ قراقرم کو دنیا کے بلند ترین پکی سڑک والے بارڈر یعنی میٹلڈ روڈ بارڈر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

خنجراب پاس گلگت سے تقریبا” 260 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہنزہ سے اس کی دوری 160 کلومیٹر ہے۔

ہنزہ سے آگے شاہراہِ قراقرم پر کچھ چھوٹے چھوٹے گاؤں آتے ہیں۔ ان میں سے سوست سب سے آخری آبادی ہے جو کہ ہنزہ سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

سوست ہی میں کسٹم چیک پوسٹ اور ڈرائی پورٹ بھی موجود ہے۔ خنجراب پاس سوست سے مزید 80 کلومیٹر کے دور ہے۔

سوست سے آگے شاہراہِ قراقرم دشوار پہاڑوں میں داخل ہو جاتی ہے اور درہ خنجراب تک 80 کلومیٹر کی تقریبا مسلسل چڑھائی ہے۔

درہ خنجراب ایک بہت بڑے سے نیم ہموار میدان کی شکل میں نظروں کے سامنے پھیلا ہوتا ہے۔ اردگرد کے تمام پہاڑ بالکل تازہ برف سے ڈھکے ہوتے ہیں جبکہ میدان کا بڑا حصہ بھی برف کی چادر اوڑھے ہوتا ہے۔

بل کھاتی سڑک اس نیم میدان کے دوسرے کونے کی طرف جا کے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ یہاں شدید گرمی کے موسم میں بھی درجہ حرارت صفر ڈگری کے قریب یا اس سے بھی کم ہوتا ہے۔ یہاں کا موسم ناقابل اعتبار ہے اور کسی بھی وقت برف باری شروع ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز