گستاخانہ خاکوں کی اشاعت: فرانسیسی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کا احتجاج

فائل فوٹو

اسلام آباد: گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پرپاکستان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ 

دفتر خارجہ نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیان پر فرانس میں پاکستان کے سفیر مارک بارٹی کو طلب کیا اور احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ فرانس کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے توہین آمیز خاکوں پر احتجاج کیا جائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے  اقوام متحدہ (یو این) سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام مخالف بیانیہ کا فوری نوٹس لے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام  مخالف  بیانیے پرہم  اپنا احتجاج ریکارڈ  کرائیں گے، کسی کوحق نہیں کہ مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔

یہ بھی پڑھیں: گستاخانہ خاکے: قریشی کا ہالینڈ کے وزیرخارجہ سے رابطہ

انہوں نے کہا کہ فرانس کےصدر کے غیر ذمہ دارانہ بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ نفرت کے جو بیج بوئے جا رہے ہیں ان کے  نتائج شدید ہوں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ کو اسلام مخالف مواد پر پابندی لگانے کے لیے خط لکھا۔

وزیراعظم عمران خان نے مطالبہ کیا کہ اسلاموفوبیا اور اسلام مخالف مواد پر بھی ہولوکاسٹ جیسی پابندیاں لگائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا مواد سوشل میڈیا اور فیس بک پر پھیلایا جا رہا ہے،ایسا مواد نفرت، انتہا پسندی، تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں یہی صورتحال دیکھ رہے ہیں، بدقسمتی سے کچھ ممالک میں مسلمانوں کو شہری حقوق حاصل نہیں جب کہ کچھ ریاستوں میں مسلمانوں کو لباس سے لے کر عبادت تک سے محروم کیا جا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی اجازت سے اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، فرانس میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی سازش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات فرانس میں مسلمانوں کومزید پسماندہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: گستاخانہ خاکوں پر فرانسیسی وزیر اعظم کا بیان، عمران خان کی شدید تنقید

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین  بنائے گئے، مسلمانوں کا قتل اورانہیں کورونا کا ذمہ دار ٹھہرانا اسلاموفوبیا کا اثر ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نفرت آمیز پیغامات بند ہونے چاہییں، ایسے پیغامات جو دوسروں کیلئے ناقابل قبول ہیں ان پر پابندی ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز