صدرمملکت اور وزیراعظم کی مدرسے میں دھماکے کی مذمت

ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے مذموم عزائم خاک میں ملائیں گے

فائل فوٹو

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے بچوں کے مدرسے میں دھماکے کی مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پشاور میں مدرسے پردہشت گرد حملے سے گہرا صدمہ ہوا اور میں متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کےلیے دعاگو ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ ذمہ دار دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے بھی پشاور دھماکے کی مذمت کی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی پشاور میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے والوں کا کوئی مذہب نہیں۔ دہشت گرد پاکستانی قوم کے عزم و حوصلے کے متزلزل نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت کا خون بہانے والے ناقابل معافی ہیں۔ دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔

‏وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بھی پشاور دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

وزیراطلاعات شبلی فراز نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ پرحملہ کرنےوالوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے مذموم عزائم خاک میں ملائیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی پشاور دھماکے کی مذمت کی ہے۔ محمود خان نے کہا کہ طلبہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت اور ظالمانہ قدم ہے۔

واقعے کے ذمہ دار قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور: بچوں کے مدرسے میں دھماکے سے7طلبہ شہید، متعدد زخمی

نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے بھی پشاور مدرسے میں دھماکے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو ہونے والے نقصان نے انتہائی رنجیدہ کردیا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جن ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں ان کے دکھ کا تصور اور ازالہ ممکن نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے واقعہ کہ مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے مدرسہ سافٹ ہدف تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ نیکٹا نے خیبرپختونخوا حکومت کو الرٹ جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور: مدرسے میں دھماکہ بارودی مواد سے ہوا، پولیس

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات کا خدشہ تھا لیکن مقام کا علم نہیں تھا۔ ہم خطے میں دہشت گردعناصر سے نمٹنا جاتنے ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور کے علاقے دیرکالونی میں ایک مدرسے میں دھماکے سے 7 طلبہ شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

مذکورہ مدرسہ مسجد سے متصل ہے اور وہاں علاقے کے بچے قران کی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ اے آئی جی شفقت ملک کے مطابق کم سے کم پانچ کلو بارودی مواد میں چھروں اور کیلوں کا استعمال کیا گیا جس سے نقصان زیادہ ہوا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز