پیپلزپارٹی رہنما کو قومی اسمبلی کے اجلاس سےنکال دیا گیا

قومی اسمبلی: اجلاس بلانے کیلیے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی

اسلام آباد: ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ کو ایوان سے باہر سے نکالنے کا حکم دیا۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے حکم دیا کہ آغا رفیع اللہ ہاؤس کی کارروائی میں مداخلت کر رہے ہیں۔ ان کو پورے اجلاس کے دوران اسمبلی میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

آغا رفیع اللہ کا باہر نکالنے پر پاکستان پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے احتجاج بھی کیا۔

راجہ پرویزاشرف نے پیپلزپارٹی رہنما کو نکالے جانے پر کہا کہ پارلیمان کے تقدس کا خیال رکھنا اپوزیشن اور حکومتی اراکین پر لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  پارلیمان میں ہم سب کو پارلیمان اور اسپیکر کی چیئر کا تقدس قائم رکھنا ہے۔ کئی مرتبہ پارلیمان میں ایسے معاملات ہو جاتے ہیں چیئر کو بھی صبر سے کام لینا چاہیے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا آغا رفیع اللہ حلف اٹھا کر کہیں گے کہ انھوں نے گالی نہیں دی۔ راجہ  پرویز اشرف نے آغا رفیع اللہ کی جانب سے  ڈپٹی اسپیکر سے  معذرت کی۔

تلخ کلامی کے بعد آغا رفیع باہر جا کر دوبارہ ایوان میں واپس آ گئے۔ ڈپٹی اسپیکر نے رول معطل کر کے رہنما  پیپلزپارٹی کو  ایوان میں واپس آنے کی اجازت  دی۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے  گندم کی قیمت کم مختص کرنے پر واک آؤٹ کردیا۔

خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 40ارب روپےکسان کو دیئے جائیں تو گندم کا معاملہ حل ہوجائے گا۔

حکومت اپنی اے ٹی ایم کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہے۔ گندم کی قیمت 1600 مقرر کی گئی اور مارکیٹ میں اسوقت گندم کی قیمت 2400 ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک زرعی ہے ،زراعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ گنے کی کاشت کے پیچھے گندم کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی کسان مار پالیسی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی غلام سرور خان نے کہا  اپوزیشن نےاپنی بات کی اب حکومتی موقف بھی سنناچاہییے۔

اپوزیشن کی تجویزکاہم خیال رکھیں گے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے اپنی سفارشات دی ہیں۔ سندھ حکومت نے گندم سے متعلق اپنی سفارشات نہیں دیں۔ اپوزیشن کی تجاویز کو ضرور زیر غور لائیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز