ہشیار! گاڑی چوری، ٹیکس چوری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنا اب آسان نہیں

اسلام آباد: کار چوری، ٹیکس چوری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اب نہیں بچیں گے کیونکہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے جو گاڑیوں کی ٹریکنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس اہم منصوبے کا آغاز اسلام آباد سے کیا جارہا ہے۔ 

آر ایف آئی ڈی (radio-frequency identification) سسٹم کے تحت گاڑیوں کے خفیہ خانوں میں اب چپ لگائی جائے گی، جس کے تحت چوری شدہ اور ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کی ٹریکنگ کی جاسکے گی۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا کہ اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے این آر ٹی سی کے ساتھ ہمارا ایک مفاہمتی  یاد داشت پر دستخط ہو چکا ہے اور ایک معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں۔

حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ آر ایف آئی ڈی سسٹم کے تحت ہر گاڑٰی کو اسپیشل آئی ڈی دے دی جائے گی اور جیسے ہی ہمارے اسکینر میں سے وہ گاڑی گزرے گی تو فوری طور پر ہماری اسکرین پر ڈیٹا آجائیگا کہ اس کا کتنا ٹیکس ہے، ٹوکن ٹیکس کتنا ہے اور اس کا کون مالک ہے؟ یہ گاڑی چوری کی تو نہیں ہے؟ ٹیمپرڈ گاڑی تو نہیں ہے؟

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق آر ایف آئی ڈی ٹیکنالوجی وسطی ایشائی ممالک میں استعمال ہو رہی ہے۔ نادرا کے کارڈ کے اندر بھی چپ لگی ہوتی ہے، ہمارے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے کارڈ کے اندر بھی چپ لگی ہوتی ہے، اب یہی چپ ہم گاڑی کے اندر بھی لگا رہے ہیں تاکہ یہ گاڑی کہی سے بھی گزرے اسکینرز لے کر ہمارے افسران بھی سڑک پر کھڑے ہونگے۔

مزید پڑھیں: جڑواں شہروں میں سیاحوں کیلئے ڈبل ڈیکر بس کا آزمائشی سفر

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب اس منصوبے پر کام شروع کیا جارہا ہے، جس کے بعد ملک کے دیگر شہروں میں بھی گاڑیوں کے خفیہ خانوں میں آر ایف آئی ڈی چپ لگانے پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ہمارا منصوبہ ہے کہ اسٹریٹ لائٹس کے پولز پر بھی ہم ان اسکینرز کو خفیہ طریقے سے لگا دینگے۔ آنے والے دوتین سالوں میں انشا اللہ یہ ہو گا کہ جب ہماری گاڑیاں سڑکوں پر ہونگیں تو ان کا لائیو ڈیٹا ہمارے پاس آرہا ہوگا۔  یعنی اب جو ہماری نمبر پلیٹ لگے گی وہ سیف سٹی کے کیمروں پر آجائے گی۔

ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اسلام آباد اعظم خان نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  آر ایف آئی چپ گاڑی کی ونڈ اسکرین کے اندر ہوگی جس میں گاڑی کا سارا ڈیٹا ہوگا اور ہماری ٹیم کے پاس ریڈ ایبل ڈیواسز ہوں گیں۔ وہ ان ڈیوائسز کے ذریعے ہم ڈیٹا کا کھوج لگا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آر ایف آئی ڈی ٹیگ کے تحت ہم ٹریکنگ سسٹم بھی ڈالیں گے، جس سے گاڑی کی ٹریکنگ بھی کر سکیں گے۔ کوئی بھی گاڑی رجسٹرڈ ہوگی یا ٹرانسفر ہوگی تو اس گاڑی کو آر ایف آئی ڈی چپ دینگے۔ اس میں گاڑی کا جتنا بھی ڈیٹا ہو گا وہ کسی بھی ٹرانسیکشن کے ساتھ خود بخود اپڈیٹ ہوتا رہے گا اور ہر ٹرانسیکشن میں آپ کو ٹیگ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ایک بار آپ نے ٹیگ لے لیا تو آپ کی کوئی بھی اپڈیٹ ہے وہ اس میں خود بخود ہوتی جائے گی۔

اعظم خان کے مطابق اس چپ کو گاڑی سے نکالنا بھی آسان نہیں ہوگا، اسے ڈیٹیکٹ کرنے والی ڈیوائسز بھی خفیہ جگہوں پر لگائی جائیں گیں۔ اگر کوئی اس سسٹم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریگا تو خودکار نظام کے تحت متعلہ اداروں کو اس کی فوری اطلاع موصول ہو جائیگی۔

ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد کے مطابق اگر کوئی بندہ اس ٹیگ کو اتارے گا تو سب سے پہلے تو وہ آسانی سے نہیں اترے گا جب تک کہ پوری ونڈ اسکرین کو نہ اتارا جائے۔جب وہ اس کو اتارے گا تو ایک سسٹم ہو گا جس میں اطلاع موصول ہو گی کہ گاڑی کا ٹیگ اتارہ جا رہا ہے، کیونکہ اگر پلیٹ میں لگایا جائیگا تو پلیٹ تو آسانی سے اتاری جاسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارے لیے بھی آسانی ہوگی اگر کوئی گاڑی جو اسلام آباد کی حدود میں ہے اور ٹیکس نادہندہ ہے تو ہماری ٹیم اس کو ٹریک کر سکے گی کہ یہ ٹیکس نادہندہ ہے۔ بجائے اس کے کہ گاڑی کو روکے اور اس کے کاغذات چیک کرے بلکہ گاڑی کی اطلاع خودکار نظام میں آجائے گا کہ جو گاڑی آرہی ہے کیا اس کا ٹیکس ادا ہوا یا نہیں۔ ہماری ٹیم صرف وہی گاڑی روکے گی جس کا ٹیکس ادا نہیں ہوا ہوگا۔

آر ایف آئی ڈی سسٹم سے نا صرف کار چوری، ٹیکس چوری اور جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے گی بلکہ یہ سسٹم آمدن کے اضافے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

آر ایف آئی سسٹم کی تنصیب کے بعد اسلام آباد پاکستان کا پہلا شہر ہوگا جس کا شمار ان ممالک میں ہوگا جو اس جدید ٹٰیکنالوجی سے پہلے ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز