کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کو محفوظ رکھنا مسئلہ ہو گا؟

سائنوفارم

فائل فوٹو

اسلام آباد: عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ایجاد کرنے کی خبر جیسے ہی ذرائع ابلاغ میں آئی تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے تھوڑا سکھ کا سانس لیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا لیکن فائزر اور بائیو ٹیک کی جانب سے کیے جانے والے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس دہلی (اے آئی آئی ایم ایس) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلوریا نے یہ کہہ کر ایک مرتبہ پھر سب کا سکون غارت کردیا کہ ایجاد کردہ ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے منفی 70 درجہ حرارت درکار ہو گا جو بھارت سمیت دیگر ممالک کے لیے کسی طور بھی ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔

کورونا: فائزر کی ویکسین، ترک نژاد ڈاکٹروں کا کارنامہ

بھارت کے تمام ممتاز ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ڈاکٹر رندیپ گلوریا کا کہنا تھا کہ ایجاد کردہ ویکسین کو محفوظ رکھنا اس لیے بڑا چیلنج ہوگا کہ ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے درکار منفی 70 درجہ حرارت مہیا کرنا ازحد مشکل ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ویکسین کے بتائے جانے والے نتائج بلاشبہ انتہائی حوصلہ افزا ہیں مگر بھارت جیسے دیگر ممالک درکار درجہ حرارت کیسے مہیا کریں گے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بالخصوص دیہاتی علاقوں میں ویکسین کی فراہمی بہت بڑا چیلنج ثابت ہو گی۔

ڈاکٹر سندیپ گلوریا کا کہنا تھا کہ درمیانی درجے کی آمدنی والے ممالک کے لیے درکار منفی 70 ڈگری درجہ حرارت کا حصول بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

کورونا ویکسین: راز چرانے کے لیے ہیکرز کا حملہ

اے آئی آئی ایم ایس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلوریا نے کہا تھا کہ بیشک فائزراور بائیوٹیک کی ایجاد کردہ ویکسین کا نتیجہ انتہائی حوصلہ افزا ہے مگر ہمیں دیگر ویکسینوں کی طرف دیکھنا چاہیے جو تجرباتی مراحل میں ہیں۔

ہم نیوز نے اس ضمن میں حیدرآباد سندھ سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی ڈاکٹر افتخار سید جو آئرلینڈ میں طویل عرصے سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میڈیکل سائنس میں منفی 70 درجہ حرارت کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

ڈاکٹر افتخار سید کے مطابق بیشک عام میڈیکل اسٹورز والوں کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ درکار درجہ حرارت پہ ویکسین کو محفوظ کرسکیں لیکن بڑے ادارے باآسانی درکار درجہ حرارت فراہم کرسکتے ہیں۔

کورونا ویکسین: اسرائیل نے فائزر کمپنی سے معاہدہ کرلیا

ہم نیوز کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بائیولوجیکل سائنس کے طلبہ کا روز اس طرح کے درجہ حرارت سے واسطہ پڑتا ہے۔

بیرون ملک طویل عرصے سے خدمات سرانجام دینے والے پاکستانی نیورو فزیشن ڈاکٹر شعیب رشید صدیقی نے اسی ضمن میں کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ منفی 70 درجہ حرارت عام آدمی کے لیے شاید انہونی بات ہو گی لیکن نائیٹروجن گیس منفی 150 سے 170 درجہ حرارت پر محفوظ کی جاتی ہے جب کہ ہیلیم گیس کا درجہ حرارت تو منفی 250 رکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شعیب رشید صدیقی کے مطابق میڈیکل سائنس میں یہ درجہ حرارت کوئی بہت زیادہ غیر معمولی ہرگز نہیں ہے اور اسے فراہم کرنا نا ممکن ہرگز نہیں ہے۔

امریکہ کی پاکستان کو پہلے مرحلے میں کورونا ویکسین فراہم کرنے سے معذرت

ہم نیوز کے استفسار پر ڈاکٹر شعیب رشید صدیقی نے کہا کہ ویکسین کی ٹرانسپورٹیشن ہو سکتا ہے کہ مسئلہ بنے لیکن جو کمپنی یہ ویکسین فراہم کرے گی یقینا وہ ایسے تھرماس یا چھوٹے کنٹینرز بھی مہیا کرے گی جس میں ویکسین کو درکار درجہ حرارت تک رکھا جاسکے گا۔

اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے استاد پروفیسر ڈاکٹر وقاراحمد عادل نے اسی ضمن میں ہم نیوز کو بتایا کہ نائیٹروجن گیس منفی 170 پر منجمد کی جاتی ہے جب کہ ہیلیم کو منجمد کرنے کے لیے منفی 250 ڈگری درکار ہوتا ہے۔

کورونا: ویکسین کافی نہیں ہوگی، عالمی ادارہ صحت نے بتادیا

پروفیسر ڈاکٹروقار احمد عادل کے مطابق بائیو لوجیکل تجربات کرنے والے طلبہ کا واسطہ اس سے کہیں زیادہ منفی درجہ حرارت سے روز پڑتا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جانوروں کی افزائش نسل کے حوالے سے تجربات کرنے والے اساتذہ اور طلبہ جب اسپمز محفوظ کرتے ہیں تو اس کے لیے منفی 195 ڈگری سینٹی گریڈ درکار ہوتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر وقاراحمد عادل نے بتایا کہ پوری دنیا میں ایسے فریزر باآسانی ملتے ہیں جو اس سے کہیں زیادہ منفی درجہ حرارت پر اشیا محفوظ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں موجود بڑے اداروں کے پاس یہ سہولت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تجرباتی لیبارٹریز کے لیے یہ معمول کی بات ہے۔

کوروناویکسین 94.5 فیصد مؤثر ہے، موڈرنا کا دعویٰ

ہم نیوز کے استفسار پرپروفیسر ڈاکٹر وقاراحمدعادل نے بتایا کہ زیادہ منفی درجہ حرارت فراہم کرنے والے فریزرز میں گیس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم اپنے گھروں کے اے سی اور فریزرز میں گیس ڈالواتے ہیں بالکل اسی طرح زیادہ درجہ حرارت والے فریزرز میں بھی گیس ڈلتی ہے اور آسانی سے ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز