فیض احمد فیض جمہور دوست سوچ کا نام اور آمریت کے خلاف اعلان جنگ ہے، بلاول

فیض احمد فیض جمہور دوست سوچ کا نام اور آمریت کے خلاف اعلان جنگ ہے، بلاول

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انقلابی شاعر فیض احمد فیض جمہور دوست سوچ کا نام اور آمریت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

اردو کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی 37ویں برسی پر اپنے پیغام  بلاول بھٹو نے کہا کہ فیض صاحب زندگی بھر استحصال کی ہر شکل کے خلاف لڑتے رہے۔ انہوں نے محنت کشوں کے حقوق اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ کیا فیض احمد فیض کو غدار قرار دینے والی سوچ آج شرمندہ ہے، یا نہیں؟۔ فیض صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کا احسن طریقہ اُن کے مشن سے خود کو منسلک کرنا ہے۔

بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 5 دہائیوں سے ملک میں جمہور کے حقوق کیلئے سرگرم عمل ہے۔ پیپلز پارٹی کا مشن فیض احمد فیض کے خواب اور فکر کا آئینہ دار ہے۔

خیال رہے کہ منفرد انداز اور منفرد پہچان رکھنے والے شاعر انقلاب فیض احمد فیض کو مداحوں سے بچھڑے آج 37 برس بیت گئے۔

مزید پڑھیں: فیض کے کلام نے بھارتی مظاہرین کی روح گرما دی

شاعر مشرق علامہ اقبال اور مرزا غالب کے بعد اردو شاعری کا سب سے بڑا نام فیض احمد فیض 1911  میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے انگریزی اورعربی میں ایم اے کیا۔ انہیں روسی اور فارسی سمیت چھ زبانوں پر عبور تھا۔ آٹھ کتب اور کئی مجموعہ کلا م تخلیق کیے۔

فیض نے محبوب کی محبت اور ہجر و فراق کے تمام ادوار کو اپنی لازوال شاعری میں سمویا۔ ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز میں فیض احمد فیض کی غزل ’مجھ سے پہلی سے محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ آج بھی عوام میں مقبول ہے۔

فیض احمد فیض راولپنڈی سازش کیس میں چار سال جیل میں اسیر بھی رہے اور فرسودہ روایات سےبغاوت پر شاعر انقلاب کہلائے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں محبت، وصل، فراق اور زمانے کی ناانصافیوں کو موضوع بنایا۔

ان کی رومانوی شاعری میں محبوب سے والہانہ محبت اور رقیب سے ہمدردی کے منفرد اسلوب ملتے ہیں۔ معاشرے میں ظلم، بے انصافی اور جبر و استبداد کو بھی فیض نے موضوع سخن بنایا۔

فیض احمد فیض نے اپنی شاعری میں غریبوں اور خاص طور پر محنت کش طبقے کیلئے آواز بلند کی۔ ان کو اپنے نظریات کے سبب قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔

وہ چار بار نوبل انعام کے لیے نامزد ہوئے اور انہیں 1962 میں لینن پیس پرائز ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فیض احمد فیض نے پاکستان میں نشان امتیاز اور نگار ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

فیٖض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو خالق حقیقی سے ملے اور وہ ماڈل ٹاؤن کے قبرستان لاہور میں آسودہ خاک ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز