پی آئی اے ملازمین کی تعداد آدھی، اسٹیل ملز کو لیز کرنے جارہے ہیں، عشرت حسین



اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سادگی مہم و ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ قومی ایئر لائن کے ملازمین کی تعداد 14 ہزار سے کم کر کے 7 ہزار اور پاکستان اسٹیل ملز کو لیز کرنے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  ڈاکٹرعشرت حسین نے کہا کہ اداروں کو مضبوط اور فعال بنانا طویل اور مشکل عمل ہوتا ہے۔ چار بڑے ‏اداروں میں اصلاحات کا منصوبہ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ‏آٹو میشن لارہے ہیں جس کے تحت برآمد کنندگان کو ایف بی آر نہیں آنا پڑے گا۔

ڈاکٹرعشرت حسین نے ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق بتایا کہ پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کرتے ہوئے ملازمین کی تعداد  آدھی کردی جائے گی، اس اقدام سے پی آئی اے کے ایک طیارے پر ملازمین کی شرح پانچ سو سے کم ہوکر اڑھائی سو ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں: نقصان میں چلنے والے اداروں کی بحالی کے لئے ہولڈنگ کمپنی کا قیام

ڈاکٹرعشرت حسین نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کو لیزکرنے جارہے ہیں، اسٹیل ملز کی 19 ہزار ایکڑ زمین حکومت اپنے پاس ‏رکھے گی، جبکہ 1200 سو ایکڑ زمین اسٹیل ملز کی ملکیت ہوگی جسے لیز پر دے کر پیدوار ‏‏3 ملین ٹن تک لیکر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی پانچ کمپنیاں بنائی جارہی ہیں، ایم ایل ون منصوبہ کے لیے الگ کمپنی ہوگی۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ اداروں کو مضبوط اور فعال بنانا طویل اور مشکل عمل ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے ذمہ داری دی کہ اداروں کے سربراہان کی تقرری مکمل شفاف ہونی چاہیے۔ ہرادارے کے سربراہ کیلئے تین موضوع امیدواروں کے نام وفاقی کابینہ کو پیش کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ وزیراعظم کی بجائے وفاقی کابینہ میں کیا جاتا ہے۔ گریڈ 21 سے 22 میں تمام ترقیاں میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ اداروں کی بنیاد مضبوط کرنے میں وقت لگے گا۔ اداروں میں تعیناتیوں سے متعلق ماہرین سے مشورے کیے گئے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ ادارے فعال بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پراداروں کی بہتری کیلئے ٹیم بنائی گئی ہے۔ ڈاکٹرعشرت حسین ٹیم کے سربراہ ہیں۔

شبلی فراز نے کہا کہ ملکی ادارے وقت کیساتھ بہتری نہ لائیں تو کارکردگی کم ہوتی جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں