پی آئی اے، اسٹیل مل اور ریلوے سے ملازمین کو نکالنا غیرآئینی ہے، رضا ربانی

اشرافیہ نے وسائل کھائے اور ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا، سینیٹر رضا ربانی

فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) ،اسٹیل ملز اور ریلوے سے ملازمین کو نکالنا غیرآئینی ہے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ تینوں اداروں کی نجکاری کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کا حصہ رہنے والے لیبر مخالف قوانین بنا رہے ہیں۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ تینوں ادارے فیڈرل لیجسلیٹولسٹ پارٹ ٹو کے تحت کام کرتے ہیں، مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے بغیر اداروں کے حوالے سے فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو ون یونٹ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم کے مشیر برائے سادگی مہم و ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے اعلان کیا تھا کہ ہم قومی ایئر لائن کے ملازمین کی تعداد 14 ہزار سے کم کر کے 7 ہزار اور پاکستان اسٹیل ملز کو لیز کرنے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  ڈاکٹرعشرت حسین نے کہا کہ اداروں کو مضبوط اور فعال بنانا طویل اور مشکل عمل ہوتا ہے۔ چار بڑے ‏اداروں میں اصلاحات کا منصوبہ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ‏آٹو میشن لارہے ہیں جس کے تحت برآمد کنندگان کو ایف بی آر نہیں آنا پڑے گا۔

ڈاکٹرعشرت حسین نے ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق بتایا کہ پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کرتے ہوئے ملازمین کی تعداد  آدھی کردی جائے گی، اس اقدام سے پی آئی اے کے ایک طیارے پر ملازمین کی شرح پانچ سو سے کم ہوکر اڑھائی سو ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں: نقصان میں چلنے والے اداروں کی بحالی کے لئے ہولڈنگ کمپنی کا قیام

ڈاکٹرعشرت حسین نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کو لیزکرنے جارہے ہیں، اسٹیل ملز کی 19 ہزار ایکڑ زمین حکومت اپنے پاس ‏رکھے گی، جبکہ 1200 سو ایکڑ زمین اسٹیل ملز کی ملکیت ہوگی جسے لیز پر دے کر پیدوار ‏‏3 ملین ٹن تک لیکر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی پانچ کمپنیاں بنائی جارہی ہیں، ایم ایل ون منصوبہ کے لیے الگ کمپنی ہوگی۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ اداروں کو مضبوط اور فعال بنانا طویل اور مشکل عمل ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے ذمہ داری دی کہ اداروں کے سربراہان کی تقرری مکمل شفاف ہونی چاہیے۔ ہرادارے کے سربراہ کیلئے تین موضوع امیدواروں کے نام وفاقی کابینہ کو پیش کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ وزیراعظم کی بجائے وفاقی کابینہ میں کیا جاتا ہے۔ گریڈ 21 سے 22 میں تمام ترقیاں میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ اداروں کی بنیاد مضبوط کرنے میں وقت لگے گا۔ اداروں میں تعیناتیوں سے متعلق ماہرین سے مشورے کیے گئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز