اپوزیشن والے لوگوں کی جانیں خطرے میں ڈال رہے، علی زیدی


سانگھڑ: وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) منافقت کر رہی ہے۔

سانگھڑ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلے وہ ہمیں کورونا پر لیکچر دیتے تھے کہ خطرناک بیماری ہے، اب اپوزیشن والے لوگوں کی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لیڈرشپ کا کام لوگوں کو صحیح راستے پر لگانا ہوتا ہے، اپوزیشن کوغریبوں کا خیال نہیں۔

یاد رہے کہ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج کہا ہے کہ موجودہ حکومت کورونا سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ کل پشاور میں عظیم الشان جلسہ ہونے جا رہا ہے۔ ناجائز حکمرانوں کی طرف سے بہت کوشش کی گئی کہ یہ جلسہ نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی اور وجہ نہیں بنی تو کورونا کی بات کی گئی، ہم ابھی تک کوویڈ 18 کی بات کررہے ہیں۔ موجودہ حکمران عوامی نمائندے نہیں ہیں بلکہ ووٹ چوری سے اقتدار میں آئے ہیں۔ یہ دوسروں پر چوری کا الزام لگاتے ہیں اور خود ووٹ چوری کر کے آئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  ووٹ چوری کیا گیا ہے، ہم ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ نااہل حکومت کے خلاف عوامی سطح پر تحریک جوبن پر ہے۔ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ جلسے سے تحریک کا آغاز کیا۔

مزید پڑھیں: کورونا کے پیچھے چھپنے سے پی ڈی ایم کا جلسہ نہیں رکے گا، مریم اورنگزیب

انہوں نے کہا کہ 30 نومبرکو پی ڈی ایم کا جلسہ ملتان میں ہوگا۔ کسی محاذ پر حکومت کو آرام  سے بیٹھنے نہیں دیں گے۔ ہمارا اگلا جلسہ 26 نومبر کو جے یو آئی کے تحت لاڑکانہ میں ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت ملک معاشی انحطاط کا شکار ہے۔ معاشی انحطاط سے ملک کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ سوویت یونین بھی معاشی انحطاط کی وجہ سے ٹوٹا تھا۔ ملک کو بچانے کیلئے تمام اداروں اور عوام کو ایک پیج پر ہونا چاہیے۔

سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ دنیا کی سیاست تبدیل ہونے جارہی ہے۔ امریکی ٹرمپ تو چلا گیا پاکستانی ٹرمپ کو اسی طرح رخصت کریں گے۔ پھر بھارت کا ٹرمپ رہ جائے گا، وہ بھارت جانے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بی آرٹی پشاور کی بسیں دھکے پر چل رہی ہیں۔ بی آر ٹی دیکھ کران کی نااہلی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آج عام آدمی پریشانی کا شکار ہے، ہرطبقہ مشکل میں ہے۔ سیاسی نظام میں تبدیلی لانےکی ضرورت ہے۔ مستقبل کے لیے پلاننگ کی ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں