زیادتی کے واقعات: ملزمان کے ٹرائل کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی

7 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم کو 2 بار عمر قید کی سزا

اسلام آباد: کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے جسنی تشدد اور ریپ کے خلاف دو نئے آرڈیننسز کی منظوری دے دی۔ جنسی زیادتی اور ریپ میں ملوث ملزمان کے ٹرائل کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں اینٹی ریپ اور کرمنل لا ترمیمی آرڈیننس 2020 کی منظوری دی گئی۔ نئے آرڈیننسز کے ذریعے خصوصی عدالتیں قائم کر کے جنسی تشدد اور ریپ کے واقعات کو روکا جائے گا۔

اینٹی ریپ آرڈیننس 2020  کے مسودے کے مطابق زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں اینٹی ریپ کرائسز سیل قائم کیے جائیں گے۔

مسودے کے مطابق متاثرین کے طبی معائنے میں غیر انسانی طریقہ کار اپنانے نہیں دیا جائے گا۔ زیادتی کے مقدمات پر ٹرائل ان کیمرہ ہوں گے۔ تحقیقات اور ٹرائل میں جدید آلات کا استعمال کیا جائے گا۔

مزید پڑھین: زیادتی کے مجرمان کیلئے کیسٹریشن کا قانون بنانے کی منظوری

مسودے کے مطابق ریپ متاثرین متاثرین  کو لیگل ایڈ اور جسٹس اتھارٹی کے تحت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔ خصوصی عدالتوں کےلیےاسپیشل پراسیکیوٹرز تعینات کیے جائیں گے۔

مسودے کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹیاں تحقیقات کریں گی۔ جنسی تشدد کرنے والوں کا ڈیٹا نادرا کے ذریعے رجسٹر کیا جائے گا۔

مسود کے مطابق جنسی تشدد کرنے والوں کا ڈیٹا نادرہ کے زریعے رجسٹ کیا جائیگا۔ زیادتی کے ملزمان کو نامرد کرنا متاثرین کی رضا مندی سے مشروط  ہوگی۔ ملزمان کو نامرد کرنا انکی بہتری کی جانب ایک قدم ہوگا۔

وزارت قانون اعلامیہ کے مطابق زیادتی میں ملوث ملزمان کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں ہوگا۔ زیادتی کے شکار افراد سے جرح صرف جج اور ملزم کا وکیل کر سکے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے زیادتی کے مجرمان کیلئے کیسٹریشن (جنسی صلاحیت سے محروم کرنا) کا قانون لانے کی منظوری دے دی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز