دشمن سے بات ہو سکتی ہے تو حزب اختلاف سے کیوں نہیں، خورشید شاہ

پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کا حکومت کو مشورہ

فوٹو: فائل

سکھر: پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ نے کہا ہے کہ دشمن سے بات ہو سکتی ہے تو حزب اختلاف سے کیوں نہیں۔ 

احتساب عدالت سکھر میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کے موقع پر رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان حزب اختلاف سے بات نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین کے حوالے سے خط کو لہرا کر کہتے ہیں این آر او نہیں دوں گا۔ میں نے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے لیکن استعفیٰ معاملے کا حل نہیں ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت خود معاملات کو تشدد اور احتجاج کی طرف لے جا رہی ہے۔ احتجاج حزب اختلاف کا قانونی حق ہے لیکن حکومت اس کو خرابی کی طرف لے جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا حزب اختلاف احتجاج کرے تو کنٹینر بھی دوں گا اور کھانا بھی۔ میں اب بھی کہتا ہوں بات چیت اور پارلیمنٹ بہترین راستہ ہے۔ پارلیمنٹ کو سپریم بنائیں تو سب مسئلے حل ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان خود سلیکٹڈ ہیں، مولانا محمد شیرانی

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت کو حزب اختلاف سے بات تو کرنا ہو گی۔ شملہ معاہدے اور کارگل کے لیے دشمن سے بات ہو سکتی ہے تو حزب اختلاف سے کیوں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب چیف جسٹس پاکستان پارلیمنٹ آسکتے ہیں تو نیب چیئرمین کو بھی آنا ہو گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز