مودی سرکار کا کسانوں کے مطالبات ماننے سے پھر انکار

مودی سرکار کا کسانوں کے مطالبات ماننے سے پھر انکار

فائل فوٹو

دہلی: بھارت کی حکومت نے ایک بار پھر کسانوں کے مطالبات ماننے سے انکار کردیا ہے۔

بھارتی جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ زرعی اصلاحاتی بل منسوخ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حکومت نے الزام لگایا ہے کہ انہیں بہت سی کسان تنظیموں کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور نجی سرمایہ کاری کے بغیر زراعت کی آمدنی بڑھنے کے قابل نہیں ہوگی۔

مودی سرکار کی جانب سے پہلی بار واضح طور پر مطالبات ماننے سے انکار کیا گیا ہے جس کے بعد حالات مزید کشید ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب بھارتی کسان یونین کے سربراہ کے مطابق جب تک حکومت بل کو واپس نہیں لے گی تب تک دھرنا جاری رہے گا۔ بھارت میں تین ہفتوں سے ہزاروں کی تعداد میں کسانوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی کسانوں نے مودی سرکار کے مذاکرات کو نئی چالاکی قرار دے دیا

کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت بات چیت کی شروعات کر کے کسانوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ متنازعہ قوانین کی واپسی تک حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت زرعی قوانین سے متعلق کسانوں کو بات چیت کے نئے شکنجے میں جکڑنا چاہتی ہے۔

مودی حکومت کے متعارف کروائے جانے والے زرعی قانون کی مخالفت میں’’ دہلی چلو‘‘ نعرے کے ساتھ بھارتی کسانوں نے بھارت کے دارالحکومت کا رخ کیا تھا۔

بھارت میں کسان متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف تقریباً ایک ماہ سے سراپا احتجاج ہیں اور تین نئے زرعی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ نہ مانے جانے پر کسانوں نے 8 دسمبر کو ملک گیر ہڑتال اور احتجاج مزید تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لاکھوں کسان تین نئے فارمنگ بلز پر عمل درآمد کیخلاف سراپا احتجاج ہیں، جس سے زرعی تجارت کے قوانین تبدیل ہوجائیں گے۔

متعلقہ خبریں