لا ہور: 7 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل

کوہاٹ: 4 سالہ بچی کے قتل الزام میں ملزمہ گرفتار

فائل فوٹو

لاہور: لاہور کے تھانے سندر کی حدود میں 7 سالہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔

ورثاء کے مطابق  بچی گزشتہ روز اغوا ہوئی تھی، پولیس نے  اغوا کا مقدمہ تھانہ سندر میں درج کر رکھا تھا۔ ورثا کی جانب سے پولیس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے بچی کی تلاش نہیں کی گئی۔

ایس ڈی پی او رائیونڈ حسیب جاوید کے مطابق بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے۔ زیادتی اور قتل کے الزام میں دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اے ایس پی حسیب جاوید کت مطابق  بچی سے زیادتی کے علاوہ دیگر پہلووَں پر بھی تفتیش جاری ہے۔ دو مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے سندر میں اغواء کے بعد بچی کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے رپورٹ طلب کی گئی تھی،،وزیراعلیٰ نے گرفتار ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: بچی سے زیادتی کی کوشش، اہل علاقہ نے مشتبہ شخص کو پکڑ لیا

واضع رہے کہ 18 ستمبر کو لاہور کی خصوصی عدالت نے 6 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم رستم علی کو سزائے موت کا حکم دے دیا تھا۔

بچوں کی خصوصی عدالت کے جج وسیم احمد نے مجرم رستم علی کو موت کی سزا سنائی تھی۔

مجرم کے خلاف لاہور کے تھانہ ڈنفس اے پولیس نے زیادتی اور قتل کا مقدمہ درج کر رکھا تھا۔ مجرم پر چھ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا الزام تھا۔

پراسکیوشن نے عدالت کو بتایا تھا کہ مجرم رستم علی گھریلو ملازم تھا۔ رستم علی نے اپنے مالک کی بچی کو جنسی تشدد کرکے قتل کیا تھا۔

عدالت نے اغوا اور قتل کا جرم ثابت ہونے پر مجرم پر 5 لاکھ روپے ہرجانہ بھی عائد کیا تھا اور جرمانے کی رقم  مبلغ 5 لاکھ روپے مقتول بچی کے ورثاء کو دینے کا حکم دیا تھا۔

کمسن بچوں کی خصوصی عدالت نے ہدایت کی تھی کہ مجرم رستم علی کی سزا لاہور ہائیکورٹ سے کنفرم ہونے کے بعد موت کی سزا پر عملدرآمد کیا جائے۔ عدالت نے مجرم کو اغوا کا جرم ثابت ہونے پر 5 سال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔ اغوا کے جرم کے تحت مجرم پر 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

ڈیفینس اے پولیس نے 2010 میں 6 سالہ بچی کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس نے 24 مارچ 2011 میں مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش کیا تھا۔

مدعی مقدمہ نے مجرم پر چھ سالہ بچی کو اغوا کے بعد زیادتی کر کے قتل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ 2018 میں بچوں اور خواتین پر تشدد کیخلاف عدالتیں قائم ہونے کے بعد کیس جینڈر بیسڈ وائلنس کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔

عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے، گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے مجرم کو موت کی سزا سنائی تھی۔

متعلقہ خبریں