بچی سے زیادتی کے بعد قتل کا معاملہ: ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی: پولیس بھتے کیخلاف گداگر عدالت پہنچ گیا

فائل فوٹو

لاہور: کچہری عدالت نے 7 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے دو ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

لاہور کے تھانے سندر کی حدود میں 7 سالہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے بچی سے زیادتی اور قتل کے الزام میں دو ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

ملزمان کی پیشی کے موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نذیر حسین مغل نے عدالت میں دلائل دیے اور عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے جرم چھپانے اور پکڑے جانے کے ڈر سے بچی کو گلا دبا کر قتل کیا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کردیا۔ ملزمان نے بچی کا گلہ دبایا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے بعد میں بچی کی لاش کو قریبی قبرستان کے پاس جوہر میں پھینکا۔

گزشتہ روز ورثاء نے کہا تھا کہ بچی ایک روز قبل روز اغوا ہوئی تھی، پولیس نے  اغوا کا مقدمہ تھانہ سندر میں درج کر رکھا تھا۔ ورثا کی جانب سے پولیس پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ پولیس کی جانب سے بچی کی تلاش نہیں کی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تھانہ سندر میں اغواء کے بعد بچی کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے رپورٹ طلب کر رکھی تھی،،وزیراعلیٰ نے گرفتار ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: بچی سے زیادتی کی کوشش، اہل علاقہ نے مشتبہ شخص کو پکڑ لیا

واضع رہے کہ 18 ستمبر کو لاہور کی خصوصی عدالت نے 6 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم رستم علی کو سزائے موت کا حکم دے دیا تھا۔

بچوں کی خصوصی عدالت کے جج وسیم احمد نے مجرم رستم علی کو موت کی سزا سنائی تھی۔

مجرم کے خلاف لاہور کے تھانہ ڈنفس اے پولیس نے زیادتی اور قتل کا مقدمہ درج کر رکھا تھا۔ مجرم پر چھ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا الزام تھا۔

پراسکیوشن نے عدالت کو بتایا تھا کہ مجرم رستم علی گھریلو ملازم تھا۔ رستم علی نے اپنے مالک کی بچی کو جنسی تشدد کرکے قتل کیا تھا۔

عدالت نے اغوا اور قتل کا جرم ثابت ہونے پر مجرم پر 5 لاکھ روپے ہرجانہ بھی عائد کیا تھا اور جرمانے کی رقم  مبلغ 5 لاکھ روپے مقتول بچی کے ورثاء کو دینے کا حکم دیا تھا۔

کمسن بچوں کی خصوصی عدالت نے ہدایت کی تھی کہ مجرم رستم علی کی سزا لاہور ہائیکورٹ سے کنفرم ہونے کے بعد موت کی سزا پر عملدرآمد کیا جائے۔ عدالت نے مجرم کو اغوا کا جرم ثابت ہونے پر 5 سال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔ اغوا کے جرم کے تحت مجرم پر 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

متعلقہ خبریں