طلبا کو تعلیمی اداروں کی یاد ستانے لگی

طلبا کو تعلیمی اداروں کی یاد ستانے لگی

فوٹو: فائل

لاہور: کورونا وائرس کے سبب تعلیمی اداروں کی بندش اور گھروں سے آن لائن پڑھنے والے طلبا اب پریشان ہو گئے اور جلد تعلیمی سلسلے کی بحالی کے خواہاں ہیں۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جہاں ایک طرف تعلیمی اداروں کی بندش طلبا کے تعلیمی حرج کا سبب بن رہی ہے وہیں دوسری طرف اب طلبا بھی گھروں میں رہ کر بور ہو چکے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کے طلبا ہوں یا پرائمری و سیکنڈری اسکولوں کے بچے وہ اب تعلیمی سلسلے کی جلد بحالی کے خواہاں ہیں۔

تعلیمی اداروں کے طلبا اب اپنے اسکول کی روزمرہ کی مصروفیات کو یاد کرنے لگے ہیں۔ صبح اٹھنا، کھیلنا اور آن لائن کلاسز میں مصروف بچوں کو اب کلاس رومز کی یاد شدت سے ستا رہی ہے۔

بچے کہتے ہیں کہ اب اسکول کھلیں گے تو وہ ضرور جائیں گے۔ جہاں وہ نہ صرف پڑھیں گے بلکہ اپنے دوستوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

یونیورسٹیز اور کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کہتے ہیں کہ سب کچھ جیسے رک سا گیا ہے۔ آن لائن پڑھائی، کمرہ کلاس میں پڑھنے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ جو کچھ آپ کلاس میں بیٹھ کر سیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آن لائن کلاسوں میں نہیں سیکھ سکتے۔ حکومت کو اب جلد تعلیمی ادارے کھول دینے چاہیئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا سے مزید ایک ہزار 895 افراد متاثر

دوسری جانب والدین کہتے ہیں کہ کورونا وائرس سے حفاظت ضروری ہے اور تعلیمی اداروں کی بندش سے بچوں کا ناقابل تلافی نقصان بھی ہو رہا ہے۔ بچے گھروں میں شرارتیں کرتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ پہلے ہم اس بیماری سے بچ جائیں پھر بچے اسکول بھی چلے جائیں گے۔

تعلیمی اداروں کی بندش سے نہ صرف بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے بلکہ یہ نفسیاتی دباؤ کا بھی شکار ہو رہے ہیں تاہم تعلیمی ادارے کھولنے جانے کا فیصلہ صوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں ہی ہو گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز