امریکی پارلیمنٹ پر دھاوا،4افرادہلاک، بم برآمد

واشنگٹن: صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین نےکیپٹل ہل(پارلیمنٹ کی عمارت) پر اس وقت دھاوا بولا جب وہاں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔

اجلاس کا مقصد جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں فتح کی باقاعدہ تصدیق کرنا تھا۔ پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی میں4 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی ہیڈکواٹرز سے 2 بم بھی برآمد ہوئے ہیں جن کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

چند افراد کو اسلحہ سمیت دیکھا گیا ۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ان افراد کی شناخت نہیں کی جا سکی۔ لوگوں کو نیچے بیٹھنے کا بھی کہا گیا۔

منظرعام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کےحامی مظاہرین عمارت کی کھڑکیوں کو توڑ رہے ہیں اورشیشوں کوتوڑکرمظاہرین عمارت کےاندر داخل ہوئے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں سیکیورٹی سخت  اور امریکی نائب صدرمائیک پنس کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:جوبائیڈن نے ہنگامہ آرائی کو بغاوت قرار دے دیا

مظاہرین کو منتشر کرنےکے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور بعد ازاں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں12 گھنٹے کیلئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق کرفیو مقامی وقت کے مطابق شام6بجے سےصبح6بجے تک نافذ رہے گا۔ امریکی حکام نے مظاہرین کو6بجے سے پہلے واشنگٹن ڈی سی سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات تب ہوتے ہیں جب عوام کو انتخابات میں ان کے فتح سے دوررکھا جاتا ہے۔ عرصے سے محب وطن امریکیوں کی حق تلفی کی جارہی ہے۔

انہوں نے ٹویٹ کیا کہ مظاہرین پرامن طریقے سے گھر جائیں اور اس دن کو یاد رکھیں۔

امریکی صدر کی جانب سے اس قسم کے ٹویٹ آنے کے بعد ٹویٹر نے ٹرمپ کی ٹویٹ کو ہٹا دیا اور فیس بک نے بھی ٹرمپ کا اکاوَنٹ24گھنٹے کے لیے بلاک کر دیا ہے۔

فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے2مرتبہ فیس بک پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز