امریکی کانگریس نےجوبائیڈن کی کامیابی کی توثیق کردی

نفرت، تعصب، نسل پرستی اور انتہا پسندی کامقابلہ کرنا ہے: جوبائیڈن

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی کانگریس نے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی  کانگریس کے مشترکہ اجلاس نےجوبائیڈن کی جیت کی تصدیق کر دی ہے۔ مشترکہ اجلاس کی صدارت نائب صدر مائک پنس نے کی ہے۔

بایئڈن 306 ووٹ  لے کر کامیاب ہوئے اور وہ20 جنوری کو حلف اُٹھائیں گے۔ تصدیق شدہ ووٹوں کے مطابق صدر ٹرمپ2020 کے انتخابات ہار چکے ہیں۔ نتائج کی کانگریس سے تصدیق صدارتی انتخابات کا آخری مرحلہ تھا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ بھی اقتدرا کی منتقلی پر رضامند ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کو 20 جنوری تک ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔ حقائق دیکھتے ہوئے انتخابی نتائج سے متفق نہیں ہوں۔

کانگریس کے اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بولا جس کے سبب اجلاس کچھ دیر کیلئے روک دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی میں4 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی ہیڈکواٹرز سے 2 بم بھی برآمد ہوئے ہیں جن کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں ہنگامہ آرائی، صدر کی برطرفی کیلئے مشاورت 

چند افراد کو اسلحہ سمیت دیکھا گیا ۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ان افراد کی شناخت نہیں کی جا سکی۔

امریکہ میں ہونے والے ہنگاموں پر رد عمل دیتے ہوئے سابق صدربش نے کیپٹل ہل پرحملے کوبناناری پبلک سے تشبیہ دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ری پبلکنزساتھیوں نےمظاہرین کواکسانےکیلئے ایندھن کا کام کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات تب ہوتے ہیں جب عوام کو انتخابات میں ان کے فتح سے دوررکھا جاتا ہے۔ عرصے سے محب وطن امریکیوں کی حق تلفی کی جارہی ہے۔

نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج نہیں بغاوت ہوئی اور بغاوت کے ذمہ دار ٹرمپ ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز