منی لانڈرنگ کیس:شہبازشریف کی جائیدادکا آڈٹ ریکارڈ طلب

لاہور: احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ایف بی آر سے شہبازشریف کی جائیداد کا آڈٹ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز نے شہباز شریف کے ٹیکس کا آڈیٹر ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست کی تھی۔

جج جوادالحسن نے کہاکہ اگرآڈٹ ہوا ہے تو آئندہ سماعت پر پیش کریں۔ عدالت میں  شہبازشریف نے کہا  میں نے جوچھ سو ارب بچائے وہ ایک اہمیت رکھتے ہیں، میں نے سب سے پہلے اس رقم کو بچانے کیلئے بچت کی۔

ملزم نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ نے جیل کا وزٹ کیا ہے۔ میڈیکل بورڈ میں میرے 3کنسلٹنٹ ہونے چاہیے۔

جج احتساب عدالت نے کہا کہ وہ علیحدہ معاملہ ہے، عدالت علیحدہ سنے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ نیب نے میرے سوالات کے جواب نہیں دیئے۔ 640ارب روپے کی ڈکیتی پہلے ہوئی تھی اسکو ریکور میں نے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کو میرا شکریہ ادا کرناچاہئے۔ عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں سولہ جنوری تک توسیع کردی ہے۔

عدالت نے آڈٹ کا ریکارڈ اور آڈیٹر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کمشنر ان لینڈ ریوینیو کو ریکارڈ کی مصدقہ کاپی پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

واضح رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائی کورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

نیب لاہور کے مطابق شہباز شریف کے خلاف اسٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر انکوائری شروع کی جبکہ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں نے سال 2008 سے 2018 تک 9 کاروباری یونٹس قائم کیے۔

1990 میں شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 21 لاکھ تھی اور 1998 میں ان کی اور ان کی اولاد کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 8 لاکھ ہو گئی۔

نیب کے مطابق 2018 میں شہباز شریف  اور ان کے اہلخانہ کے اثاثوں کی مالیت بینامی کھاتے داروں، فرنٹ مین کی وجہ سے 6 ارب کے قریب پہنچ گئی۔ شہباز شریف اور ان کے اہلخانہ نے کرپشن کر کے اس وقت 7 ارب سے زائد کے اثاثے بنا لیے ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز