ٹرمپ جوہری ہتھیاروں کے خفیہ کوڈز والا بیگ ساتھ لے جائیں گے

واشنگٹن: امریکا میں46 ویں صدر کی تقریب حلف برداری سے قبل امریکی خفیہ ایجنسیوں کو نئی اور سب سے بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکا میں روایت ہے کہ جانے والا صدرنو منتخب صدر کی حلف برداری تقریب میں موجود ہوتا ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔

ٹرمپ تقریب حلف برادری سے قبل ہی جوہری ہتھیار کے خفیہ کوڈز کے بیگ سمیت فلوریڈا روانہ ہو جائیں گے۔

امریکا میں چمڑے کا یہ خاص بیگ ‘دی نیوکلیئر فٹ بال‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیگ تقریب حلف برداری کے بعد وائٹ ہاؤس میں جوبائیڈن کے حوالے کرنا تھا۔

مقامی وقت کے مطابق تقریب کا آغاز صبح ساڑھے گیارہ بجے ہوگا اور حلف برادری دوپہر بارہ بجے ہوگی۔ ٹرمپ صبح8 بجے فلوریڈا کیلئے روانہ ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکاکے46ویں صدرجوبائیڈن آج حلف اٹھائیں گے

بائیڈن کے حلف لیتے ہی امریکی ملٹری کو حساس ‘فٹ بال’ کا 45 پاونڈ وزنی بیگ واپس واشنگٹن ڈی سی لانا ہوگا۔

صدر ہونے کے ناطے ٹرمپ’ دی نیوکلیئربال‘ کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ امریکہ میں کم سے کم تین ایک جیسے’دی نیوکلیئر فٹ بال‘ ہیں۔

ایک صدر کے پاس رہتا ہے، ایک نائب صدر اور ایک روایتی طور پر نامزد کیے گئے ان لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو ایسی تقاریب میں شرکت نہیں کرتے جہاں صدر اور نائب صدر ایک ساتھ موجود ہوں۔

تقریب حلف برادری کے موقع پر صرف نائب صدر مئیک پنس والا’ دی نیوکلیئربال‘ وائٹ ہاؤس میں ہوگا۔

امریکی صدر کے پاس اے ٹی ایم کارڈ کی طرح پلاسٹک کا ایک کارڈ ہوتا ہے جس کو’دی بسکٹ‘ کہتے ہیں۔

’دی بسکٹ‘ میں ایسے کوڈ ہوتے ہیں جس میں صدر کی شناخت ہوتی ہے ۔ صدر واحد شخص ہے جو جوہری ہتھیار لانچ کرنے کا مجاز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فخر ہے کہ میں نے کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی، صدرٹرمپ

آئین کے مطابق ٹرمپ اس وقت تک ایٹمی ہتھیار لانچ کرنے کے مجاز رہیں گے جب تک بائیڈن حلف نہیں اٹھا لیتے۔

ٹرمپ کا’دی بسکٹ‘ دوپہر کے بعد غیرفعال ہوجائے گا اور پھر بائیڈن کا’دی بسکٹ‘ فعال ہو جائے گا۔ تقریب حلف برداری کے بعد فلوریڈا سے جوہری ہتھیاروں والا بیگ واپس واشنگٹن لایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز