یونیورسٹی آف پشاور: ملازمین کو صرف بنیادی تنخواہیں ملیں گی

یونیورسٹی آف پشاور: ملازمین کو صرف بنیادی تنخواہیں ملیں گی

پشاور: یونیورسٹی آف پشاور ایک مرتبہ پھر مالی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کو اب صرف بنیادی تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے گی۔

ہم نیوز کے مطابق یونیورسٹی ملازمین کو جنوری 2021 کی تنخواہیں بھی پوری نہیں ملیں گی۔

سیالکوٹ: وزیراعظم نے 17 ارب کے ترقیاتی منصوبے اور یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا

یونیورسٹی آف پشاور کے رجسٹرار آفس سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے پاس فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین کو صرف بنیادی تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے گی۔

جنوری 2020 میں بھی یونیورسٹی نے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے نجی بینکوں سے قرضے لیے تھے۔

تعلیمی شعبے کیلیے بری خبر: جامعات فیسوں میں اضافہ کرینگی؟

یونیورسٹی آف پشاورکے اخراجات کم کرنے کے لیے گذشتہ سال 500 کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کر دیا گیا تھا۔

یونیورسٹی آف پشاورکو 2020 میں دو ارب روپے کی گرانٹ درکار تھی لیکن صرف 80 کروڑ روپے ملے تھے۔

پشاور: اسلامیہ کالج یونیورسٹی مالی بحران سے دوچار، انٹرنیٹ سروس بند

یونیورسٹی آف پشاورمیں 15 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں جب کہ ملازمین کی تعداد تقریبا دو ہزار ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز