2007 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ ٹیسٹ میچ میں بال پکر بنا، بابر اعظم

چیئرمین پی سی بی کے 6 ماہ میں 57 لاکھ روپے کے اخراجات

لاہور: پاکستانی کرکٹر بابر اعظم نے کہا ہے کہ اپنی خواہش پر 2007 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ ٹیسٹ میچ میں بال پکر بنا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز بابر اعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق کپتان کے پویلین لوٹنے اورغصے سے بیٹ مارنے کا منظر آج بھی یاد ہے۔ کرکٹ اسٹارز کو دیکھنے کے شوق نے بال پکڑ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی ایک خواب تھا۔

کپتان قومی ٹیسٹ ٹیم بابراعظم کا کہنا ہے کہ کرکٹ نامور ستاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کا شوق انہیں قذافی اسٹیڈیم کھینچ لایا تھا اور وہ اپنی خواہش پر 2007 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ میں بال پکر بنے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک بال پکر کی حیثیت سے نہ صرف باؤنڈری کراس کرنے والی گیندیں پکڑتے بلکہ کھلاڑیوں کو ناکنگ بھی کرواتے تھے۔ یہ انضمام الحق کے ٹیسٹ کیریئر کا آخری میچ تھا اور انہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے مزید 2 رنز درکار تھے مگر وہ اسٹمپ ہوکر پویلین واپس لوٹے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی کے 6 ماہ میں 57 لاکھ روپے کے اخراجات

بابراعظم نے کہا کہ انضمام الحق کے پویلین واپس لوٹنے اور ڈریسنگ روم میں غصے سے بیٹ مارنے کا منظر انہیں آج بھی یاد ہے۔

واضح رہے کہ 26 جنوری سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی قیادت بابراعظم کریں گے، یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب بابراعظم کسی ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی قیادت کریں گے۔

دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کا پہلا میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور دوسرا پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا تاہم بابراعظم کے کرکٹ کیرئیر میں قذافی اسٹیڈیم لاہور کا کردار بہت اہم ہے کہ جہاں سال 2007 میں آخری مرتبہ پاکستان آنے والی مہمان ٹیم نے ایک ٹیسٹ میچ کھیلا تھا، بابراعظم اس ٹیسٹ میچ میں بطور بال پکر گراؤنڈ میں موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز