نیب کی جانب سے ملزمان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا خلاف قانون قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری مشقت کے خلاف کمیشن قائم کر دیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی جانب سے دفعہ 23 کے تحت انکوائری پر ملزمان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا خلافِ قانون قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکیورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر سندھ بینک بلال شیخ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے متعلق درخواست کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے  قرار دیا ہے کہ محض الزام پر بینک اکاؤنٹس بلاک کرنا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ  نے قرار دیا ہے کہ  نیب کو انکوائری،انویسٹی گیشن مکمل کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ تفتیشی ایجنسی کی تاخیر کی وجہ سے شہری کو اکاؤنٹ سے رقم نکالنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ نیب نے انکوائری پراثاثے منجمد کرناہوں تو دفعہ 12 کےتحت آرڈر کرے۔ محض الزام پر اکاؤنٹس بلاک کرنا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے سابق صدر سندھ بینک کو ذاتی اکاؤنٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے نیب کی جانب سے اکاؤنٹس سے رقم نکالنے کے خلاف  درخواست مسترد کردی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس میں بلال شیخ اور سندھ بینک کے صدر طارق احسان کو گرفتار کر لیا تھا۔ نیب نے کریڈیٹ ڈویژن سندھ بینک کے ہیڈ سید ندیم الطاف کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔

مزید پڑھیں: نیب نے آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا

ملزمان پر اومنی گروپ کو 1.8 ارب روپے کے جعلی قرضے جاری کرنے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گزشتہ سال سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کیا تھا۔ آصف زرداری عدالتی ضمانت پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز